Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

جس کے نتیجہ میں ان کو یہ سخت تنبیہ دی گیا : یا ایھا الذین اوتوا الکتب آمنوا بما نزلنا مصدقا اے اہل کتاب ایمان لاؤ اس پر جو ہم نے نازل کیا ہے۔ لما معكم من قبل ان نطمس وجوہا فنردھا علی وہ سچا کرنے والی ہے اس چیز کو جو تمھارے پاس ہے۔ ادبارھا او نلعنہم کما لعنا اصحاب السبت و اس سے پہلے کہ ہم شادالیں چہروں کو۔ پھر ان کو پیٹھ کی کان امر اللہ مفعولا (نساء ۴۷) طرف الٹا دیں یا ان کو لعنت کریں جیسے لعنت کی ہم نے اصحاب سبت کی اور اللہ کا حکم پورا ہو کر رہتا ہے۔ "چہرہ کو بگاڑ کر پیچھے پھیر دینے،، کا مطلب یہ ہے کہ تمھاری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم کر دی جائے گی۔ چہرہ آدمی کی باطنی قوتوں کا مظہر ہے۔ وہ سمع و بصیر و فؤاد کا آئینہ ہے۔ اس لئے چہرہ کو الٹ دینے کا مطلب دیکھنے اور سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کو الٹ دینا ہے۔ کتاب آسمانی کے حاملین کی گمراہی کا مطلب یہ ہے کہ حقائق سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ پھر بھی وہ ان کو چھوڑ کر منحرف راستوں پر دوڑتے ہیں۔ عام لوگوں کی گمراہی اگر غفلت ہے تو ان کی گمراہی سرکشی ۔ اس لئے اس اعراض کی سزا ان کو یہ ملتی ہے کہ ان کی قوتوں کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔ سخت سزا کی وجہ ان کے معاملہ کی خصوصی نوعیت ہے۔ اللہ کی کتاب ان کے سامنے موجود ہے اور رسول کی سنت ان کو راستہ دکھا رہی ہے۔ خدا کی نشانیاں ان کے سامنے کھلی ہوئی ہیں اس کے باوجود وہ جھوٹے الفاظ بول بول کر اس سے ردگردانی کرتے ہیں۔ وہ آنکھوں والے ہو کر اندھے پن کا ثبوت دیتے ہیں۔ یہ چیزیں ان کے جرم کی شناعت کو بہت بڑھادیتی ہیں۔ اللہ کا غضب ان پر پھر کتا ہے۔ ان کو یہ سخت ترین سزا دی جاتی ہے کہ ان کی عقل کو الٹ دیا جاتا ہے۔ ان کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ چیزوں کی حقیقت ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ سیدھی بات ان کو الٹی نظر آتی ہے اور الٹی بات سیدھی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتے کہ اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت ان کے کے لئے روشنی کا کام دے سکے۔ آدمی کی عقل ہی وہ چیز ہے جس سے آدمی نیک و بد کو سمجھتا ہے۔ ایک راہ کو چھوڑنے اور دوسری راہ کو اختیار کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب عقل کو الٹ دیا جائے تو پھر وہ کسی معاملہ کی حقیقت کو کس طرح سمجھے گا۔ اس کے بعد آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ وہ گمراہیوں میں بھٹکتا رہتا ہے، حق کی کوئی آواز اس کی اصلاح کے لئے کارگر ثابت نہیں ہوتی ــــ وہ تعمیرات کے نام پر بے معنی چیخ پکار میں مشغول ہوتا ہے اور ساری تاریخ اس کو یہ سبق دینے سے عاجز رہتی ہے کہ دوسروں کے خلاف چیخ پکار سے کبھی کسی قوم کی تعمیر نہیں ہوتی۔ وہ سیاسی مظاہروں کو حق کی شہادت کا نام دیتا ہے اور تمام انبیاء کا اسوہ اس کو یہ بتانے کے لئے ناکافی ثابت ہوتا ہے کہ شہادت کا کام آخرت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page