Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

کی گواہی دیتا ہے نہ کہ سیاسیات اور معاشیات کی گواہی دینا یہ وہ لفظوں کے درد سے جنت کے محل تعمیر کرتا رہتا ہے اور خدا کی کتاب اپنی تمام وضاحتوں کے باوجود اس کو پتا نہیں پاتی کہ جنت کسی آدمی کو جنت والے عمل سے ملتی ہے نہ کہ صرف لسانی اوراد سے۔ یہی حال رفتہ رفتہ اس کی تمام دینی ولی سرگرمیوں کا ہو جاتا ہے ۔ وہ خود ساختہ مونشکافیوں کو دینی تعلیم قرار دیتا ہے اور رسول اور اصحاب رسول کی پوری زندگی اس کو یہ بتانے میں ناکام رہتی ہے کہ دینی تعلیم کتاب اللہ کے حقائق و معارف کو ذہن میں اتارنے کا نام ہے نہ کہ ایسے مسائل میں لامتناہی بحث جاری رکھنے کا جن سے کتاب و سنت نا آشنا ہوں ۔ وہ خود ساختہ عملیات اور وظائف پر روحانی ترقی کی عمارت کھڑی کرتا ہے اور یہ واقعہ اس کی آنکھ کھولنے والا ثابت نہیں ہوتا کہ اللہ کے رسول نے اپنے اصحاب کو روحانی ترقی کا جو طریقہ بتایا اس میں اس قسم کے عملیات و وظائف کا کوئی وجود نہ تھا۔ وہ دنیوی حقوق و مطالبات پر ملی سیاست کا بازار گرم کرتا ہے اور یہ عظیم حقیقت اس کے قدموں کو نہیں رکھتی کہ اللہ کے پیغمبروں کا اسوہ جو اللہ کی کتاب میں بیان ہوا ہے اس کے یہ سراسر خلاف ہے کہ دائی گروہ اپنی مدعو قوم سے دنیوی مفادات کے جھگڑے چھیڑ دے ۔ وہ سیاسی اقتدار قائم کرنے کو امت مسلمہ کا اصل مشن بتاتا ہے اور یہ واقعہ اس کے یقین میں کوئی تزلزل پیدا نہیں کرتا کہ آسمانی کتاب کے پورے متن میں کوئی فقرہ ایسا نہیں ہے جس کے عبارت النص سے یہ حکم نکلتا ہو کہ "اے مسلما نو تمھار انصیب العین یہ مقرر کیا گیا ہے کہ تم دنیا بھر میں اپنی سیاست کا جھنڈا گاڑ دو ، وہ نظام اسلام کا نام لے کر مسلم آبادیوں میں توڑ پھوڑ مچاتا ہے اور یہ حقیقت اس کے جوش تخریب میں کمی کرنے والی ثابت نہیں ہوتی کہ خدا کا پیغمبر سرا پا رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا اور اس بات کو اس نے مطلق حرام قرار دیا تھا کہ کوئی بھائی اپنے دوسرے بھائی کی جان و مال پر دست درازی کرے ۔ جب کسی گروہ کی عقل الٹ جائے تو اس کو نہ حق حق کی صورت میں دکھائی دے گا اور نہ باطل باطل کی صورت میں ۔ دلائل اس کو بے وزن معلوم ہوں گے کھلی ہوئی نشانیاں اس کے سامنے آئیں گی مگر وہ اس کو دکھائی نہ دیں گی ۔ الٹی باتیں اس کو سیدھی نظر آئیں گی اور جو سیدھی بات ہے وہ اس کو الٹی دکھائی دے گی۔ اس کا حال ان لوگوں جیسا ہو جائے گا جن کی نشان دہی قرآن میں ان لفظوں میں کی گئی ہے : وان یروا كل آية لا يؤمنوا بها دان يروا اور اگر وہ دیکھیں ساری نشانیاں یقین نہ کریں ان کو۔ سبيل الرشد لا يتخذ و ه سبيلا - دان يروا اور اگر دیکھیں راہ سنار کی وہ نہ ٹھہرائیں اس کو راہ ۔ سبيل الغي يتخذ وه سبيلا - ذالك بأنهم اور اگر دیکھیں راہ الٹی اس کو ٹھہرائیں راہ۔ یہ اس كذبوا بآياتنا وكانوا عنها غفلين واسطے کہ انھوں نے جھوٹ جانیں ہماری نشانیاں (اعراف ۱۴۷) اور ہو رہے وہ ان سے غافل ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page