ذہنی کھول: سب سے بڑی رکاوٹ
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبری کے ذریعہ معلوم کیا جاسکتا ہے۔ اور اب قیامت تک کے لئے اللہ کے مستند پیغمبر صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ "جاننے والے سے پوچھو" ایک عام لفظ ہے۔ جب بھی کسی کلام میں یہ لفظ آئے تو دیکھنا ہوگا کہ کس چیز کے بارے میں پوچھنا مراد ہے۔ جس چیز کی بابت پوچھنا مطلوب ہے اسی چیز کے جاننے والے سے پوچھنا مراد ہوگا نہ کہ کسی دوسری چیز کے جاننے والے سے۔ اس قسم کا سوالیہ اسلوب قرآن میں دوسرے مقامات پر بھی موجود ہے۔ مثال کے طور پر سورہ انبیاء میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین یہ کہتے تھے کہ یہ تو عام انسانوں کی طرح ایک انسان ہیں (هل ھذن الا بشر مثلكم) پھر وہ خدا کے پیغمبر کیسے ہو سکتے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ نبی عربی سے پہلے جس کو بھی ہم نے رسول بنا کر بھیجا انسانوں ہی میں سے بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے۔ پس سابق اہل کتاب سے پوچھ لو اگر تم نہیں جانتے (فسئلوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون) اس آیت میں اہل ذکر سے مراد یہود ہیں۔ قریش سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم کو یہ شبہ ہے کہ رسول انسان کیسے ہو سکتا ہے تو یہود سے پوچھ لو۔ کیونکہ تم جانتے ہو کہ ان کے یہاں کثرت سے پیغمبر آتے رہے ہیں۔ وہ تم کو بتائیں گے کہ ان کے یہاں جتنے پیغمبر آئے سب انسان ہی تھے۔ ان میں سے کوئی بھی فرشتہ یا اور کوئی غیر انسانی مخلوق نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader