یکساں برتاؤ
Urdu book, p. 210
By Maulana Wahiduddin Khan
یکساں برتاؤ ويل للمطففين . الذين اذا اكتالوا على خرابي ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کی۔ وہ لوگ کہ الناس يستوفون . واذا كالوهم جب دوسروں سے ناپ کر لیں تو پورا لیں ۔ اور او وزنوهم يخسرون . الا يظن اولئك جب دوسروں کو ناپ کر یا تول کر دیں تو گھٹا کر دیں انهم مبعوثون . ليوم عظیم . يوم کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن وہ اٹھائے يقوم الناس لرب العالمين . (المطففين) جانے والے ہیں اس دن جب کہ تمام لوگ خداوند عالم کے سامنے کھڑے ہوں گے دوسروں کو ان کے حق سے کم کر کے دینا برا ہے۔ مگر دوسروں سے لیتے وقت پورا پورا لینا اور اپنے پاس سے دوسروں کو دینا ہو تو کمی کر کے دینا اور بھی زیادہ برا ہے۔ جو آدمی ایسا کرے وہ خدا کی نظر میں سخت گنہگار ہے۔ ایسا آدمی گویا خود ہی اپنے جرم کو ثابت کر رہا ہے۔ کیونکہ اس کا عمل بتا رہا ہے کہ وہ انصاف اور نا انصافی کے فرق کو جانتا ہے۔ ظلم کا ظلم ہونا اس پر بخوبی واضح ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ اپنی ذات کے لئے کم ملنے کے بارہ میں اتنا احساس کیوں ہوتا۔ جو دکان دار خریدتے ہوئے پورا تول کرلے اور بیچتے ہوئے کم تول کردے اس کے بدترین مجرم ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ ظاہر الفاظ کے مطابق اس آیت میں لین دین کو صحیح رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہاں انسان کی ایک نفسیاتی برائی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اور وہ ہے اپنے لئے کچھ پسند کرنا اور دوسروں کے لئے کچھ۔ وہ سارے لوگ اس آیت کے ذیل میں آتے ہیں جن کا حال یہ ہو کہ وہ دوسروں کی عزت نہ کریں اور خود یہ چاہیں کہ ان کی عزت کی جائے۔ جو خود کسی کو سلام نہ کریں مگر یہ چاہیں کہ لوگ انہیں سلام کریں۔ جو دوسروں کے ساتھ کبھی انصاف نہ کریں مگر اپنے لئے یہ چاہیں کہ لوگ ان کے ساتھ مکمل انصاف کریں۔ خود وعدہ خلافی کریں تو انہیں کوئی احساس نہ ہو مگر جب دوسرا ان کے ساتھ وعدہ خلافی کرے تو بھڑک اٹھیں۔ وہ دوسروں سے خدمت لینے کو اپنا حق سمجھیں مگر دوسرے کی خدمت کرنا انہیں بالکل یا روند رہے۔ مزدور سے کام لیتے ہوتے یہ چاہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ کام کرے مگر اجرت دیتے وقت یہ چاہیں کہ کم سے کم اجرت دینی پڑے۔ وہ دوسروں کو بے فکری کے ساتھ ستائیں مگر جب انھیں کوئی تکلیف پہنچائے تو چیخ اٹھیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader