دورِ جدید کا شرک
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ جدید کا شرک مولانا مناظر احسن گیلانی (۱۹۵۶ء - ۱۸۹۲ء) نے لکھا ہے: پہلوں کی عقلوں کو سورج کی شعاعوں اور آگ کے شعلوں نے اگر چندھیا یا تھا تو کیا پچھلوں کے سینوں میں برق کی قوتوں، ایٹم کی طاقتوں، پٹرول کی توانائیوں نے چکا چند نہیں لگائی ہے، بزرگوں کے کارنامے، سورماؤں کی اولو العزمیوں نے اگر پہلوں کو ان بزرگوں کی پتھر میں کھدی ہوئی مورتیوں کے آگے جھکایا تھا تو کیا پچھلوں کے لیڈروں اور قائدوں کے کارناموں نے ان کے اسٹیچو اور فوٹو کے ساتھ ساری قومی عزت و فلاح کو وابستہ نہیں کیا ہے (النبی الخاتم صفحہ ۱۵۷) جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ نہیں مانتے۔ مگر جو لوگ خدا کو مانتے ہیں وہ بھی اکثر مشرکانہ انداز میں اس کو مانتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جس طرح دوسرے معاملات میں تبدیلیاں ہوئی ہیں اسی طرح شرک کی صورتیں بھی بدل گئی ہیں۔ قدیم شرک کی بنیاد اگر توہات پر تھی تو جدید شرک کی بنیاد علم اور تہذیب پر ہے۔ بہت سے لوگ صورتوں کی تبدیلی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شرک میں مبتلا نہیں ہیں۔ لیکن اگر گہرائی کے ساتھ جائزہ لیجئے تو وہ بھی معروف مشرکوں سے کم مشرک نظر نہیں آئیں گے۔ خدا کو ماننے کی دو سطحیں ہیں۔ ایک فطری سطح اور دوسرے شعوری سطح۔ خدا انسان کے رگ و پے میں سمایا ہوا ہے۔ وہ فطرت انسانی میں ہر دوسری چیز سے زیادہ پیوست ہے۔ اس لئے آدمی ہر حال میں خدا کو ماننے پر مجبور ہے۔ حتیٰ کہ غافل اور ملحد انسان بھی نازک لمحات میں خدا کو پکارنے لگتا ہے، مگر یہ سب فطری سطح پر خدا کا اقرار ہے۔ اور فطری سطح پر خدا کا اقرار معتبر نہیں۔ خدا کا اقرار صرف وہ معتبر ہے جو شعور کی سطح پر پیدا ہوا ہو۔ مشرک انسان کا معاملہ بھی ہے۔ وہ فطرت کی سطح پر خدا کو ماننے پر مجبور ہوتا ہے۔ مگر وہ شعور کی سطح پر خدا کا یقین نہیں کر پاتا۔ اس لئے خدا کے رسمی اقرار کے ساتھ وہ کچھ اور ہستیاں بنا لیتا ہے جن سے وہ اپنی امیدوں اور تمناؤں کو وابستہ کرسکے۔ خدا کو اگرچہ وہ مانتا ہے۔ مگر خدا صرف اس کے رسمی عقیدہ کا جزو ہوتا ہے، وہ اس کے شعور کا جزو نہیں ہوتا۔ وہ بظاہر خدا کو مانتا ہے مگر وہ اس کے شعور اور احساس میں ایک زندہ حقیقت کے طور پر شامل نہیں ہوتا۔ وہ اس کے فکر و عمل میں روح بن کر نہیں دوڑتا۔ اس کے شعور کو زندہ یقین اس کے مفروضہ خداؤں سے ملتا ہے۔ اس کے احساس کو تردتانہ تڑپ ان ہستیوں سے ملتی ہے جن کو اس نے محسوس طور پر اپنے سامنے بٹھا رکھا ہے۔ خدا اس کے روایتی عقیدہ کا جزو ہوتا ہے اور شرکار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader