Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

یکساں برتاؤ

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی زندگی کے لئے خدا کا پسندیدہ اصول یہ ہے کہ آدمی کا جو برتاؤ لینے میں ہو۔ وہی اس کا برتاؤ دینے میں ہو۔ جو آدمی اس کے خلاف عمل کرے وہ خدا کے نقشے کے خلاف چل رہا ہے۔ اور خدا کے نقشے کے خلاف چلنے والے کے لئے خدا کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں۔ تحریکیں ناکام کیوں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے جو تحریکیں اٹھائیں۔ وہ سب کی سب اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں ۔ اس کا سبب مذکورہ آیت کی روشنی میں معلوم کیا جاسکتا ہے۔ ان تحریکوں کے لیڈر دوسروں سے اپنے خلاف جس ظلم کی شکایت کر رہے تھے وہ خود دوسروں کے خلاف وہی ظلم کر رہے تھے۔ قرآن کے مطابق ایسے لوگوں کے لئے اس دنیا میں خدا کا غضب ہے نہ کہ خدا کی نفرت ۔ الرسالہ مارچ ۱۹۸۳ صفحہ ۴۴ پر ایک تنقیدی مضمون شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں اگر چہ کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ تاہم مسلمانوں کے کچھ لیڈر جو اپنے اعلان کے مطابق، قوم کے خلاف ظالموں کے ظلم کو ختم کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، انہوں نے محسوس کیا کہ اس کی زدان کے اوپر پڑ رہی ہے ان کے آدمی ہمارے دفتر میں آتے۔ وہ بے حد مشتعل تھے۔ انہوں نے ہم کو برا بھلا کہا اور دھمکیاں دیں۔ ہم تمہارے اوپر مقدمات چلائیں گے ہم تم کو نکال باہر کریں گے۔ ہم تمہارا خاتمہ کر دیں گے ‘ وغیرہ۔ میں نے کہا کہ میرے ساتھ آپ جو کچھ کریں گے وہ تو بعد کی بات ہے۔ آپ دیکھئے کہ اپنے اس طرز عمل سے آپ خود اپنے کو کس خانے میں ڈال رہے ہیں۔ آپ ثابت کر رہے ہیں کہ آپ کا معیار اپنے لئے کچھ ہے اور دوسروں کے لئے کچھ۔ آپ کے بیان کے مطابق آپ کو ہمارے سے ایک مضمون سے شکایت پیدا ہو گئی حالانکہ اس میں آپ کا نام شامل نہ تھا۔ ایسے صرف ایک مضمون کی بنا پر آپ ہم سے اتنا بگڑے ہوئے ہیں کہ ہم کو مٹاناچاہتے ہیں۔ پھر جن لوگوں کو آپ ظالم کہتے ہیں ان کے پاس تو آپ کے خلاف اس سے بہت زیادہ بڑی بڑی شکایتیں موجود ہیں۔ یہ لوگ جو ظلم کر رہے ہیں وہ بھی یوں ہی بلا سبب نہیں کر رہے ہیں۔ بلکہ مختلف قسم کی شکایتوں اور ناراضگیوں کی بنیاد پر کر رہے ہیں۔ پھر آپ کے لئے معمولی شکایت کی بنا پر کسی کو برباد کرنے کا منصوبہ بنانا اگر جائز ہے تو وہی دوسرے لوگوں کے لئے نا جائز کیوں ہو۔ یہ تضاد موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈروں میں موجود ہے اور یہی تضاد ان کی تمام تحریکوں کو بے نتیجہ بناتے ہوئے ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page