Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اختلافات

Urdu book, p. 217

By Maulana Wahiduddin Khan

اختلافات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا یا نہیں ، اس کے بارے میں صحابہ کے درمیان دو رائیں ہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس اور اکثر صحابہ رویت کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ معراج کی رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اسی طرح دیکھا جیسے کوئی شخص کسی چیز کو دیکھتا ہے۔ مگر حضرت عائشہ کا خیال اس کے برعکس تھا۔ مسروق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے پوچھا کہ کیا رسول خدا نے معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا۔ حضرت عائشہ نے کہا۔ تم نے ایسی بات اپنے منہ سے نکالی ہے کہ میرے سر کے بال کھڑے ہو گئے۔ تین باتیں ایسی ہیں کہ جو بھی ان کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے۔ جو تم سے کہے کہ محمد نے اپنے رب کو دیکھا اس نے جھوٹ کہا۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے لا تدرکہ الابصار و ھو يدرك الابصار (الانعام ۱۰۳) اتنے نازک معاملہ میں اتنے بڑے اختلاف کے باوجود صحابہ کے درمیان نہ جھگڑے پیدا ہوئے اور نہ فرقے بنے۔ ان کا اختلاف اظہار رائے کے دائرے میں رہا، اس سے آگے نہ جا سکا۔ مگر بعد کے زمانہ میں اسی رویت باری کے مسئلے پر زبردست معرکہ آرائیاں ہوئیں اور مسلمان مستقل طور پر دو فرقوں میں بٹ گئے جن میں سے ایک معتزلہ کہلائے اور دوسرا وہ جس کو اہل سنت کہا جاتا ہے۔ اہل سنت نے اپنے اقتدار سے فائدہ اٹھا کر اگر چہ معتزلہ کو ختم کر دیا تاہم تاریخ اور درسیات میں ان کا غغلہ ابھی تک جاری ہے۔ قرآن میں ایک آیت ہے کہ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کی جزا جہنم ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ اور اس پر اللہ کا غضب اور لعنت ہو گی (النساء ۹۳) ، اس آیت کی بنیاد پر حضرت عبد اللہ ابن عباس حضرت زید ابن ثابت اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود کا خیال تھا کہ جو شخص بالا ارادہ کسی مومن کو قتل کر دے اس کی تو بہ قبول نہیں ہوگی۔ سعید ابن جبیر تابعی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ ابن عباس سے پوچھا کہ جو شخص کسی مومن کو باقصد قتل کر دے اس کی توبہ قبول ہوگی یا نہیں۔ عبداللہ ابن عباس نے جواب دیا کہ نہیں۔ سعید ابن جبیر نے سورہ فرقان کی آیت نمبر ۷۰ - ۶۸ سے استدلال کرتے ہوئے اس رائے سے اختلاف کیا۔ اس کے جواب میں حضرت عبد اللہ ابن عباس نے کہا، یہ آیت ہی ہے جس کو مدنی آیت نے منسوخ کر دیا۔ تاہم صحابہ کی اکثریت کا خیال تھا کہ قاتل کے لئے بھی تو بہ کی گنجائش ہے کیوں کہ قتل بہر حال

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page