Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

بے عملی کا سبب

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

بے عملی کا سبب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ میں قرآن کی دعوت کا اعلان کیا تو وہاں کے بیشتر لوگوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اس انکار کی وجہ وہی قدیم نفسیات تھی جو پچھلے پیغمبروں کے انکار کا باعث بنی تھی۔ اس سلسلہ میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے: اور جب ان کے پاس ہدایت آگئی تو ان کو ایمان لانے سے اس کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں ہوئی کہ انہوں نے کہا کہ کیا اللہ نے بشر کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ کہو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے جو اس میں چلتے پھرتے تو البتہ ہم ان پر آسمان سے فرشتہ کو رسول بنا کر بھیجتے (بنی اسرائیل ۴۲- ۹۵) پیغمبر لوگوں کے پاس ہدایت لے کر آیا۔ مگر وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر کو ان کے لیے انسانی نمونہ بنا کر بھیجا گیا تھا۔ مگر وہ اس کو آسمانی پیکر کے روپ میں دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ نہ سکے کہ پیغمبر اگر آسمانی پیکر کے روپ میں آئے تو وہ ان کے لیے نمونہ کیسے بنے گا۔ انسانی عمل کے لیے نمونہ وہی شخصیت بن سکتی ہے جس پر انسانی تجربات گزریں۔ جو انسانی طاقت اور انسانی ضعف کے ساتھ دنیا میں رہے جو پیغمبر انسانی اوصاف سے ماورا ہو وہ کسی غیر انسانی مخلوق کے لیے نمونہ ہو سکتا ہے۔ گروہ انسان جیسی مخلوق کے لیے نمونہ نہیں بن سکتا۔ موجودہ زمانہ کا کیس بھی عملی نتیجہ کے اعتبار سے یہی ہے۔ قدیم زمانہ کے منکر پیغمبروں سے اس لیے حیات انسانی کا نمونہ نہ لے سکے کہ وہ انہیں برتر مخلوق کے روپ میں دکھائی نہیں دیا۔ موجودہ مسلمان اس لیے پیغمبر سے نمونہ حاصل کرنے میں ناکام ہیں کہ وہ پیغمبر کو ہیرو پیغمبر کے روپ میں دیکھتے ہیں نہ کہ اسوہ پیغمبر کے روپ میں۔ ہیرو فخر کے لیے ہوتا ہے نہ کہ تقلید کے لیے۔ ہیرو کو دیکھ کر قصیدہ خوانی کا جذبہ ابھرتا ہے نہ کہ اس کی پیروی کرنے کا۔ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا ہے انہوں نے ہیرو کو اپنا تو ابرو من لیا البتہ اس کے لیے وہ پیشے کے لائق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page