Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دلائل قرآن

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

دلائل قرآن قرآن میں ہے کہ جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو پکارے اس کے حق میں اس کے پاس کوئی دلیل نہیں (وَمَنْ يَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ (المؤمنون،۱۱۷) اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے ایک عالم نے کہا کہ موحد کہتا ہے کہ خدا ایک ہے، مشرک کہتا ہے کہ خدا کئی ہیں۔ اس طرح ایک خدا کا وجود دونوں کے درمیان متفق علیہ ہو گیا۔ کیونکہ مشرک نے جب کہا کہ خدا کئی ہیں تو ایک خدا کو اس نے پہلے ہی مان لیا۔ اس طرح ایک خدا کا وجود تو اپنے آپ ثابت ہے۔ اب دلیل کی ذمہ داری موحد پر نہیں ہے بلکہ مشرک پر ہے۔ ایک کے بعد بققیہ خداؤں کے وجود پر وہ دلیل لائے۔ یہ سادہ استدلال کا ایک نمونہ ہے۔ ہر معاملہ میں استدلال کے دو درجے ہوتے ہیں۔ ایک سادہ اور دوسرا علمی۔ کچھ لوگوں کے لئے سادہ دلیل کافی ہو جاتی ہے۔ مگر کچھ لوگ ہوتے ہیں جن کا تقاضا ہوتا ہے کہ زیادہ علمی انداز میں ان کے سامنے بات کو واضح کیا جائے۔ قرآن میں دونوں سطح کے دلائل موجود ہیں۔ اوپر کی مثال، برہان کی سادہ تفسیر ہے۔ مگر اس برہان کی علمی اور سائنٹفک تفسیر بھی یہاں موجود ہے۔ راقم الحروف نے اس کی وضاحت مختلف کتابوں میں کی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جب ہم کائنات کا مطالعہ کرتے ہیں تو تمام حاصل شدہ شہادتیں خالق کی وحدانیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں نہ کہ خالق کے تعدد کی طرف۔ مثلاً وسیع کائنات کے تمام اجزا کا ترکیبی مادہ صرف ایک ہے، اور وہ ناقابل مشاہدہ ایٹم ہے۔ پوری کائنات میں ایک ہی قانون کی کارفرمائی ہے۔ کائنات میں بے شمار سرگرمیاں ہیں مگر سب کی سب متوافق طور پر کام کرتی ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان سب کا ناظم ایک ہی ہے۔ کائنات کا کوئی جزو، اپنے عمل کے دوران جب کوئی مسئلہ پیدا کرتا ہے تو اس کا دوسرا جز فوراً اس کی تلافی کے لئے آجاتا ہے۔ تمام چیزیں جو جڑے جڑے کی شکل میں ہیں۔ مگر دونوں میں اتنی یکسانیت ہے کہ دونوں بالکل گانگ وصیل کی طرح مل کر کام کرتے ہیں۔ اگر دونوں کے الگ الگ خدا ہوں تو دونوں میں اس طرح کا مل ہم آہنگی نہیں ہو سکتی (نوٹ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page