Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

تین قسم

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

تین قسم مستدرک حاکم (کتاب الجہاد) میں حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت حسب ذیل الفاظ میں آتی ہے: کل شیء من لہو الدنیا باطل الا دنیا کا ہر کھیل باطل ہے سوا تین چیزوں کے۔ تمہارا ثلاثة انضالك بقوسك وتأديبك تیر کمان سے کھیلنا۔ اور تمہارا اپنے گھوڑے کو سدھانا لفرسيك وملاعبتك لأهلك فانهن اور تمہارا اپنی بیوی کے ساتھ تفریح کرنا۔ یہ تین من الحق ۔ کھیل ہیں جو درست ہیں۔ یہ اور اس طرح کی دوسری حدیثوں کو جو لوگ مطلق معنوں میں لے لیتے ہیں وہ ان کو سمجھ نہیں پاتے اور مختلف قسم کی غلطیاں کرتے ہیں۔ مثلاً ایک گروہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ مذکورہ تین چیزوں کے سوا ہر کھیل شریعت میں ممنوع ہے۔ حتیٰ کہ ہاکی اور فٹ بال کھیلنا بھی شیطانی فعل ہے۔ دوسرا گروہ جو کو یہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے کہ خدا منکورہ تین چیزوں کے سوا ہر کھیل کو قابل ترک قرار دے وہ جھنجھلا کر خود حدیث ہی کو ترک کر دیتے ہیں۔ وہ کہہ دیتے ہیں حدیث میں پیغمبر کے اقوال صحیح طور پر نقل نہیں ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم قرآن کو مانیں گے اور حدیث کو چھوڑ دیں گے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی حدیثیں مطلق معنوں میں نہیں ہوتیں ۔ وہ کسی مخصوص صورت حال میں دین کی روح کو بتانے کے لئے ہوتی ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مذکورہ حدیث میں تین کھیل سے مراد تین قسم کے کھیل ہیں۔ وہ حقیقتہ کھیل کی نوعیت کو بتاتے ہیں نہ کہ کھیل کی صورت کو۔ مفہوم کے اعتبار سے اگر اس حدیث کی تشریح کی بجائے تو وہ یہ ہوگی کہ دنیا کا ہر کھیل باطل ہے الا یہ کہ وہ با مقصد کھیل ہو۔ مثلاً مقابلہ کی تیاری والا کھیل جیسے کہ قدیم زمانہ میں تیر کمان تھا۔ گھوڑا دوڑانا جس میں جسمانی ورزش بھی ہے اور گھوڑے کو سواری کے لئے تیار کرنا بھی۔ اسی طرح بیوی سے تفریح جو در اصل نا جائز تفریح سے اپنے کو بچانے کا ذریعہ ہے۔ مذکورہ حدیث کو تین کھیل کے مفہوم میں لیا جائے تو وہ عجیب معلوم ہوتی ہے۔ لیکن اگر اس کو تین قسم کے کھیل کے مفہوم میں لیں تو وہ نہایت با معنی معلوم ہونے لگتی ہے۔ ایک چیز ظاہر میں کچھ نظر آتی ہے لیکن تھرائی کے ساتھ دیکھئے تو وہ کچھ اور بن جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page