تین قسم
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
کے چھوڑنے کے لئے کوئی عذر قابل قبول ہے۔ اسی لئے حکم ہے کہ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرو۔ (تفسیر ابن کثیر جلد چہارم، تحت سورۃ الاحزاب) یہاں ہم ذکر کے بارہ میں دو حدیثیں نقل کرتے ہیں: أخرج الامام أحمد عن معاذ بن جبل مرفوعا قال : الا أخبركم بخير أعمالكم و أزكاها عند مليككم و أرفعها في درجاتكم ، و خير لكم من تفاضى الذهب والفضة، و من أن تلقوا عدوكم غداً فتضربوا أعناقهم و يضربوا أعناقكم ، قالوا بلى يا رسول الله ، قال ﷺ : ذكر الله عز و جل ، وروی أن رجلا سأل النبي ﷺ فقال : أي المجاهدين أعظم أجراً يا رسول الله ؟ قال ﷺ : أكثرهم لله ذكراً ، قال فأي الصائمين أكثر أجراً ، قال ﷺ : أكثرهم لله عز و جل ذكراً ، ثم ذكر الصلاة و الزكاة و الحج و الصدقة ، كل ذلك يقول رسول الله ﷺ : أكثرهم له ذكراً ، فقال أبو بكر لمصر رضي الله عنها : ذهب الذاكرون بكل خير ، فقال رسول الله ﷺ : أجل . ( أخرجه الامام أحمد في المسند ) رسول اللہ صلّی اللہ علیہ نے حضرت معاذ بن جبل سے فرمایا: کیا میں تم کو بتلاؤں کہ تمہارے اعمال میں سب سے اچھا عمل کیا ہے۔ اور تمہارے مالک کے یہاں سب سے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمہارے رتبہ کو سب سے زیادہ بڑھانے والا ہے اور تمہارے لئے سونا چاندی دینے سے بھی زیادہ بہتر ہے اور اس سے بہتر ہے کہ تم مل اپنے دشمن سے ملو، تم ان کی گردنیں مارو اور وہ تمہاری گردنیں ماریں۔ صحابہ نے کہا: ہاں اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: اللہ تعالی کا ذکر۔ اسی طرح روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہا: اے خدا کے رسول ، مجاہدوں میں سب سے زیادہ اجر کس مجاہد کا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ اللہ تعالی کا ذکر کرتا ہو۔ پھر آدمی نے پوچھا کہ روزہ داروں میں سب سے زیادہ اجر کس روزہ دار کا ہے۔ آپ نے فرمایا وہ شخص جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔ اسی طرح آدمی نے نماز اور زکوۃ اور حج اور صدقہ کے بارہ میں سوال کیا۔ بار آپ کے یہی جواب دیے کہ وہ شخص جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader