تین قسم
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی کا دوسرا نام ذکر ہے۔ ۱۴ جولائی ۱۹۶۹ء کی رات تمام اخباروں کے دفتروں میں زبردست سرگرمیوں کی رات تھی۔ اسی روز پہلا انسان (آرم اسٹرانگ) چاند پر اترا تھا اور اخباروں کے دفتروں میں ٹیلی پرنٹر پر مسلسل خبریں آ رہی تھیں، جن کو اخبارات کا اسٹاف کل صبح کے اخبار کے لئے تیزی سے لے رہا تھا۔ اس روز رات کو میں ایک اخبار کے دفتر میں گیا۔ اخبار کے نیوز ڈ یٹر اپنی کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے میز پر کاغذات کا ڈھیر لگا تھا۔ میں نے تازہ واقعہ کے بارے میں دریافت کیا تو ان کی زبان سے نکلا : "بڑی تھرلنگ نیوز آ رہی ہیں!" میں نے سوچا کہ انسان زمین سے سفر کر کے آسمان تک پہنچ گیا تو اس خبر کو سن کر لوگوں کے اندر Thrill پیدا ہورہا ہے۔ مگر زمین اور چاند کو دیکھ کر اور ان کے درمیان حیرت انگیز نظام کا مشاہدہ کر کے آدمی کے اندر تھرل پیدا نہیں ہوتا۔ انسانی واقعات پر تھرل مگر خدائی واقعات پر کوئی تھرل نہیں۔ انسانی کرشمہ کو دیکھ کر امریکی بڑی کی زبان سے جو جملہ نکلا، اسی قسم کے الفاظ جب خدائی کرشمہ کو دیکھ کر نکلنے لگیں تو اسی کا نام دین کی اصطلاح میں ذکر ہے۔
آپس کی لڑائیاں ہلاکت کی طرف لے جاتی ہیں عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: إني لستُ أخشى عليكم أن تُشركوا ولكن أخشى عليكم مجھے یہ اندیشہ نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرنے لگو گے۔ مجھے الدنیا أن تنافسوا فيها و تقتتلوا فتهلكوا كما یہ اندیشہ ہے کہ تم دنیا چاہنے لگو گے اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑو گے۔ یہاں تک کہ اسی طرح ہلاک ہوگئے (متفق علیہ) هَلك من كان قبلكم جس طرح پچھلی امتیں ہلاک ہو گئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader