تین قسم
Urdu book, p. 227
By Maulana Wahiduddin Khan
ذکر تمام عبادتوں سے افضل کیوں ہے۔ اس لئے کہ ذکر تمام عبادتوں کا خلاصہ ہے۔ تمام عبادات واعمال سے بالآخر جو چیز مطلوب ہے وہ یہی ہے کہ آدمی خدا کا ذکر کر کے والا بن جائے۔ ذکر در اصل معرفتِ خدا وندی کا دوسرا نام ہے جب آدمی کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے جب اس کا تصور ظاہر کے پردہ کو پھاڑ کر غیب کی حقیقتوں کو دیکھ لیتا ہے تو اس وقت اس کے عین قدرتی نتیجہ کے طور پر، جو کیفیت آدمی پر گزرتی ہے اسی کا نام ذکر ہے۔ ذکر در اصل ایک اعلیٰ ترین تجربہ ہے نہ کہ کسی قسم کی لفظی تکرار۔ ذکر کا تعلق کسی لفظ سے نہیں، بلکہ حقیقت سے ہے۔ ذکر در اصل کسی انسان کا وہ قیمتی لمحہ ہے جب کہ وہ خدا کی عظمتوں کو اتنی گہرائی کے ساتھ پالے کہ اس کے دل میں معرفتِ الہی کا بھونچال آجائے اور اس کی زبان سے اس کے اعتراف واظہار کا فوارہ پھوٹ نکلے۔ ذکری بندۂ خدا کی اس حالت کا نام ہے جب کہ وہ خدا کے احسانات اور اس کے کمالات کو سوچتا ہے ۔ اس سے اس کے قلب و دماغ میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ اس کی روح یا د خدا میں نہا اٹھتی ہے۔ اس کی زبان سے بے ساختہ خدا کی خدائی کے اعتراف میں ملکوتی الفاظ نکلنے لگتے ہیں۔ اس کو موت اور آخرت کی یاد آتی ہے۔ وہ زندگی کے آغاز وانجام پر غور کرتا ہے۔ یہ چیزیں اس کو توڑ پھوڑ دیتی ہیں۔ وہ بیٹیا باد ایسے الفاظ بولنے لگتا ہے جس میں جہنم کا خوف پٹا ہوا ہو اور جس میں جنت کی خوشبو شامل ہو گئی ہو۔ جس آدمی کا رخ اللہ کی طرف ہو جائے تو اس پر ایسے خصوصی لمحات آتے ہیں جب کہ اس کے رب سے اس کا آمنا سامنا ہوتا ہے۔ جب بندگی اور خدائی ایک دوسرے سے بہت قریب آجاتے ہیں۔ جب بندہ اپنے رب کو دیکھنے لگتا ہے۔ ان خصوصی لمحات میں روح انسانی کے اندر جو توج پیدا ہوتا ہے اور احساس بندگی اور اعترافِ خدا وندی کے دو طرفہ احساس کے تحت جو کلمات نکل پڑتے ہیں انہیں کو دین کی اصطلاح میں ذکر کہا جاتا ہے۔ ہم کسی ایسے سورج کو نہیں جانتے جس میں روشنی نہ ہو۔ ہم کسی ایسے کارخانہ سے واقف نہیں جس کا کوئی انجینئر نہ ہو۔ مگر دنیا کو دیکھتے تو یہاں بڑا عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ یہاں آرت ہے مگر آرٹسٹ نہیں یہاں کار کردگی ہے مگر کار پرداز نہیں۔ یہاں حکمت ہے مگر حکیم نہیں۔ یہاں سرگرمیاں ہیں مگر کوئی محرک نہیں۔ یہاں زندگی ہے مگر کوئی زندگی بخش نہیں۔ خلاصہ یہ کہ یہاں خدائی ہے مگر کوئی خدا نہیں۔ ذکر وہ ربانی لمحہ ہے جب کہ آدمی اس خلا کو عبور کر لیتا ہے۔ جب وہ ”نہیں“ سے گزر کر ”ہاں“ تک پہنچ جاتا ہے۔ جب کہ وہ مخلوقات کے پردہ میں اس کے خالق کو دیکھ لیتا ہے۔ یہ تاریخ انسانی کی عظیم ترین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader