مردار سے زیادہ متعفن
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
مردار سے زیادہ متعفن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: والذی نفسی بیدہ لا تقوم الساعة حتى اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ قیامت يبعث الله امراء كذبة ووزراء فجرة قائم نہ ہوگی جب تک وہ دور نہ آجائے جس میں جھوٹے حکمراں، واعواناً خونةً وعرفاء ظلمةً وندراء برے وزراء، بددیانت ملازمین حکومت، ظالم قائدین ظہور فسقةً سيماهم سيماهُم الرهبان وقلوبهم میں نہ آجائیں۔ اس زمانہ میں ایسے فاسق علماء ہوں گے جن انتن من الجييف اهواؤهم مختلفة کا ظاہر پارساؤں جیسا ہوگا اور ان کے دل مردار سے زیادہ فيتيح الله لهم فتنة غبراء مظلمة متعفن ہوں گے۔ ان کی خواہشات ایک دوسرے سے الگ فيتها وكون فيها ہوں گی۔ اس زمانہ میں اللہ ایک ایسا اندھا فتنہ برپا کریگا جس میں لوگ حیران و سرگرداں ہو کر رہ جائیں گے۔ اس حدیث میں جو تصویر پیش کی گئی ہے وہ کافروں اور مشرکوں کی نہیں ہے۔ کافر اور مشرک تو ہمیشہ ہی ایسے ہوتے ہیں۔ یہ خود مسلمانوں کے بگاڑ کے زمانہ کی حالت ہے۔ یہ ان لوگوں کی تصویر ہے جو اپنے کو مسلمان کہیں گے اور اس پر فخر کریں گے کہ وہ افضل الانبیاء کے امتی ہیں۔ یہ زمانہ کب آئے گا۔ اس کی ایک قطعی اور کھلی ہوئی پہچان ہے۔ اور وہ ہے ۔ لوگوں کی خواہشات کا ایک دوسرے سے مختلف ہو جانا۔ اور اس کے نتیجہ میں لوگوں کے اندر باہمی ٹکراؤ کا پیدا ہونا۔ غور سے دیکھئے تو یہ علامت آج پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے۔ آج مسلم افراد، مسلم اداروں اور مسلم قوموں کا سب سے نمایاں وصف باہمی اختلاف ہے۔ شخصی آرزوئیں اور گروہ وہی مصلحتیں لوگوں کے اوپر اتنا چھا چکی ہیں کہ ہر ایک اپنے خول میں بند ہے، کوئی دوسرے سے ملنے کے لئے تیار نہیں۔ علماء کے لئے دین ایک سستی تجارت بن چکا ہے۔ ان کے سینہ میں ذاتی مفاد اور ذاتی نمائش کے سوا اور کچھ نہیں۔ تاہم وہ پارسائی کا جھوٹا لبادہ اپنے اوپر ڈالے ہوئے ہیں تاکہ لوگوں کی نظر میں مقدس بنے رہیں، تاکہ وہ دین کے نام پر عوام کا استحصال کر سکیں۔ جب امت پر یہ وقت آتا ہے تو ہر ایک اپنی خواہش کے مطابق دین کی تشریح کرنے لگتا ہے۔ فکری اختلافات بے پناہ حد تک بڑھ جاتے ہیں۔ حق، اپنی تمام تابانیوں کے باوجود، انسانی آوازوں میں گڈ مڈ ہو کر رہ جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader