Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

آپ کا حصہ آپ کو مل کر رہے گا

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کا حصہ آپ کو مل کر رہے گا عبد اللہ بن مسعود رضہ کا بیان ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اَیُّہَا النَّاسُ لَیْسَ مِنْ شَیْئٍ یُقَرِّبُکُمْ اِلَی اے لوگو! جنت سے قریب کرنے والی جتنی چیزیں ہیں اور اَلْجَنَّةِ وَ یُبَاعِدُکُمْ مِنَ النَّارِ اِلَّا قَدْ دوزخ سے دور کرنے والی جتنی چیزیں ہیں، ان سب کا اَمَرْتُکُمْ بِہِ وَلَیْسَ مِنْ شَیْئٍ یُقَرِّبُکُمْ میں تمہیں حکم دے چکا ہوں، اسی طرح دوزخ سے قریب مِنَ النَّارِ وَیُبَاعِدُکُمْ مِنَ الْجَنَّةِ کرنے والی جتنی چیزیں ہیں اور جنت سے دور کرنے والی اِلَّا قَدْ نَہَیْتُکُمْ عَنْہُ وَاِنَّ الرُّوْحَ الْأَمِیْنِ جتنی چیزیں ہیں، ان سب سے تمہیں منع کر چکا ہوں۔ اور نَفَثَ فِیْ رُوْعِیْ اَنْ نَفْسًا لَنْ تَمُوْتَ جبریل امین نے میرے دل میں یہ خیال ڈالا ہے کہ کوئی شخص حَتَّی تَسْتَکْمِلَ رِزْقَہَا اَلَا فَاتَّقُوا اللَّهَ ہرگز مر نہیں سکتا جب تک وہ اپنے حصے کا رزق نہ پالے۔ وَ اَجْمِلُوْا فِی الطَّلَبِ وَلَا یَحْمِلَنَّکُمْ تو آگاہ! تم لوگ خدا سے ڈرو اور تلاش رزق میں جمیل اِسْتِبْطَاءُ الرِّزْقِ اَنْ تَطْلُبُوْهُ بِمَعَاصِیْ طریقوں سے کام لو اور اگر رزق آنے میں کچھ دیر لگے تو اس اللَّهِ فَإِنَّهُ لَا يُدْرَكُ مَا عِنْدَ اللَّهِ کی وجہ سے تم معصیت کی راہ سے اس کو حاصل کرنے کی طرف إِلَّا بِطَاعَتِهِ مائل نہ ہو جاؤ کیونکہ خدا کے پاس جو کچھ ہے اس کو اس کی (مشکوٰة ، باب التوکل والصبر) اطاعت ہی کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ صحیح زندگی چھوڑ کر غلط زندگی اختیار کرنے کا محرک اکثر حالات میں یہی ہوتا ہے کہ آدمی دنیا میں اپنے لئے زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکے۔ اس لئے فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ تم حاصل کرتے ہو وہ محض تمھاری اپنی کوششوں کا حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ دراصل تمھارا وہ حصہ ہوتا ہے جو پہلے سے تمھارے لئے مقدر ہو چکا ہے، اس لئے حصولِ معاش کی جدوجہد میں دوسرے فرائض کو نہ بھولو اور اس کے لئے اتنا بدحواس نہ ہو جاؤ کہ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑنے لگو۔ یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھو کہ دنیا کے لئے آدمی کی بے قراری یا حرام ذریعوں سے حاصل کرنے کی کوشش اس کو مزید کچھ نہیں دے سکتی۔ وہ صرف اس کی بدبختی میں اضافہ کرے گی۔ حصولِ معاش کی جدوجہد میں ہمیشہ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ جو کچھ کسی کو ملتا ہے وہ خدا کی طرف سے ملتا ہے۔ ہماری کوششیں ہمارے لئے استحقاق پیدا کرتی ہیں نہ کہ وہی بذاتِ خود نتیجہ پیدا کرنے والی ہیں۔ اس معاملہ کو تعلیمی امتحان کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے، کسی شخص کی امتحان میں داخلہ کی درخواست کو قبول کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ امتحان ہال میں اس کو ایک نشست دی جائے گی۔ اور اسی کے ساتھ اس کے لئے وہ تمام سامان فراہم کئے جائیں گے جو امتحان دینے کے لئے ضروری ہیں۔ اس مثال سے موجودہ دنیا میں زندگی کی حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے، یہ دنیا دار الامتحان ہے اور ہمارا یہاں پیدا ہونا گویا اپنے آپ کو امتحان میں شامل کرنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page