Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

سوال و جواب

Urdu book, p. 242

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال و جواب سوال: بہت سے لوگ جمعہ کے دن سورہ کہف پڑھتے ہیں اور اس کا بہت ثواب بتاتے ہیں، اس سلسلہ میں آپ کی تحقیق کیا ہے ۔ جواب: متعدد روایتیوں میں سورہ کہف کو جمعہ کے دن پڑھنے کی فضیلت بتائی گئی ہے۔ مگر یہ تمام روایتیں ضعیف ہیں۔ قوی روایت صرف وہ ہے جس کو احمد اور مسلم نے قتادہ سے نقل کیا ہے : من حفظ عشراً آيات من اول سورة الكهف عصم من الدجال جس شخص نے سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیتوں کو محفوظ رکھا وہ دجال سے محفوظ رہے گا۔ اس روایت میں نہ تو "پڑھنے" کا ذکر ہے نہ "جمعہ" کے دن کا ۔ صرف یہ کہا گیا ہے کہ سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیتوں میں جو تعلیم دی گئی ہے، جو شخص ان کو ذہن نشین کر لے گا اور اسان کو اپنی زندگی میں ملحوظ رکھے گا ، وہ دجال کے ظہور کے وقت اس کے فتنے سے بچ رہے گا۔ اب سورہ کہف کی ابتدائی دس آیتوں کو دیکھیے۔ غور کیا جائے تو ان میں دو اسوہ ملتا ہے۔ ایک پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ جو لوگوں کو خدا پرست بنانے کی کوشش میں اپنے کو ہلاک کئے دے رہے تھے (کہف-۶) دوسرے آپ سے قبل کے کچھ صالح نوجوان (اصحاب کہف) کا اسوہ جنھوں نے یہ دیکھ کر کہ وہ لوگوں کے درمیان اپنے دین کو بچا نہیں سکتے، بستی سے نکل کر غاروں میں جا چھپے (کہف۔۱۰) معلوم ہوا کہ سورہ کہف کی ابتدائی در آیتوں کا سبق یہ ہے کہ جب زمین پر فتنہ کی حالت پیدا ہو جائے اور خدا کی خلاف ورزی ہونے لگے، تو اہل ایمان کے لئے دو ہی راستے ہیں۔ اول یہ کہ غافل اور سرکش لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچائیں اور اس میں اپنی پوری طاقت صرف کردیں۔ دوسرے یہ کہ اگر وہ دیکھیں کہ معاملہ اس نوبت کو پہنچ چکا ہے کہ دوسروں کی اصلاح کے بجائے وہ خود اپنے آپ کو آزمائش میں مبتلا کر لیں گے تو ایسی حالت میں نہیں چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو عوام الناس سے الگ کر لیں اور کسی گوشئے میں سمٹ کر زندگی کے بقیہ ایام پورے کر کے مر جائیں۔ پہلی صورت اقدام کی ہے، دوسری تحفظ کی۔ من قال لا اله الا اللہ مخلصا دخل الجنة » اس قسم کی روایات کی تشریح عام طور پر جس طرح کی جاتی ہے اس سے سخت غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ اخلاص کے ساتھ لا الہ کہنے کا مطلب لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ آدمی تھوڑی دیر کے لئے کسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page