Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہوسکتا

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کی باتوں سے صحیح ذہن نہیں پیدا ہوسکتا عن زید بن ارقم قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ زید بن ارقم سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وسلم من قال لا الہ الا اللہ مخلصا دخل الجنة، فرمایا جو شخص لا الہ الا اللہ اخلاص کے ساتھ کہے وہ جنت قیل و ما اخلا صھا قال ان تحجزہ عن محارم میں داخل ہو گا۔ پوچھا گیا کلمہ کا اخلاص کیا ہے۔ فرمایا، وہ اللہ (رواہ الطبرانی فی الاوسط و الکبیر) اس کو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے روک دے۔ اس حدیث کی تشریح میں ایک بزرگ لکھتے ہیں : " اور یہ ظاہر ہے کہ جب حرام کاموں سے رک جائے گا اور لا الہ الا اللہ کا قائل ہوگا تو اس کے سیدھا جنت میں جانے میں کیا ترد د ہے۔ لیکن اگر حرام کاموں سے نہ بھی رکے تب بھی اس کلمہ پاک کی یہ برکت تو بلا تردد ہے کہ اپنی بداعمالیوں کی سزا بھگتنے کے بعد کسی نہ کسی وقت جنت میں ضرور داخل ہوگا۔ البتہ اگر خدا نخواستہ بداعمالیوں کی بدولت اسلام و ایمان ہی سے محروم ہو جائے تو دوسری بات ہے " (۷۱) "حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں یہ نقل کیا گیا کہ خوش خبری سنو اور دوسروں کو بھی بشارت سنا دو کہ جو شخص سچے دل سے لا الہ الا اللہ کا اقرار کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اخلاص کے ساتھ تھوڑا سا عمل بھی بہت کچھ رنگ لاتا ہے، اس لئے اخلاص سے جو شخص کلمہ شہادت پڑھے اس کی ضرور مغفرت ہوگی ، وہ ضرور جنت میں داخل ہو کر رہے گا۔ اس میں ذرا بھی تر د نہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے کچھ دنوں سزا بھگت کر داخل ہو لیکن ضروری نہیں ۔ " (۸۹) اس عبارت پر خالص ”مسئلہ “ کی حیثیت سے اعتراض کرنا مشکل ہے۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ محرمات سے رکنا اور محرمات سے نہ رکنا دونوں میں اگر " بلاتر دد " جنت کی خوش خبری دی جانے لگے تو اس سے کبھی صحیح ذہن نہیں پیدا ہو سکتا۔ یہودی تو یہی کہتے تھے کہ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّا اَيَّامًا مَّعْدُودَة (ہم کو آگ نہیں چھوئے گی مگر چند دن) پھر اسی قسم کا عقیدہ اگر ہم بھی بنالیں تو ہمارے یہاں اس سے مختلف ذہن کیوں پیدا ہوگا جو یہود کے یہاں پیدا ہوا ۔ اس قسم کے مسائل وضع کرنے والے شاید کتاب الہی کی اس آیت کو بھول گئے ہیں۔ لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيُّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ نہ تمھاری خوش گمانیوں سے کچھ ہو گا نہ اہل کتاب کی خوش گمانیوں يَعْمَلْ سُوءً ا يُجْزَ بِهٖ سے ، جو برا کرے گا وہ ضرور اس کا بدلہ پائے گا ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page