Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

غلط استدلال

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط استدلال سورہ انفال (آیت ۴۱) میں یہ حکم ہے کہ اموال غنیمت کا خمس ریاست کا حصہ ہے اور بقیہ فوجیوں کا۔ ابتدائی دور میں اسی کے مطابق عمل ہوتا رہا۔ مدائن، جلولاء، حمص، حلب وغیرہ فتح ہوئے تو ان کے اموال غنیمت کو پانچ حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ ریاست کو بھیج دیا گیا اور بقیہ چار حصے فوجیوں میں تقسیم کر دئے گئے۔ واضح ہو کہ اس زمانہ میں فوجی با تنخواہ نہیں ہوتے تھے، بلکہ رضا کارانہ طور پر لڑنے کے لئے جایا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں سواد عراق کی زمینیں فتح ہوئیں تو فاتح فوجیوں نے چاہا کہ ان زمینوں کو بھی اسی طرح تقسیم کیا جائے، جس طرح اس سے پہلے اموال تقسیم ہوتے رہے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہ زمینیں تم لوگوں کو دے دوں تو دوسرے مسلمانوں کے لئے کیا رہے گا۔ اور حکومت کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے۔ (فبماذا تُسَدُّ به الثغور وما يكون للذرية والارامل) اس مسئلہ پر کئی روز تک بحث ہوتی رہی۔ فوجیوں کا کہنا تھا کہ یہ ہماری ملکیت ہے۔ اس لئے ہم کو ملنا چاہئے (التقسمت ما افاء الله علينا باسيافنا على قوم لم يحضروا) بالآخر فیصلہ حضرت عمرؓ کی رائے پر ہوا۔ جو لوگ اجتماعی ملکیت کے نظریہ پر یقین رکھتے ہیں، وہ اس واقعہ سے دلیل لاتے ہیں کہ انفرادی ملکیت کو منسوخ کر کے اجتماعی ملکیت قائم کرنا اسلام میں جائز ہے۔ مگر اس واقعہ سے یہ بات قطعاً ثابت نہیں ہوتی۔ حضرت عمرؓ اور ان کے ہم خیال (عثمانؓ، علیؓ، طلحہؓ وغیرہ) کی جو گفتگوئیں اور تقریریں منقول ہوئی ہیں، ان سے بالکل یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ ان زمینوں کو فی الواقع فوجیوں کی ملکیت سمجھتے تھے اور اس کے باوجود ان کو چھین کر ریاستی ملکیت بنانا انھوں نے جائز سمجھا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ زمینیں تو ابھی نئی نئی فتح ہوئی تھیں اور ان پر ملکیت کے تعلق کا سوال تھا نہ کہ فرد کی ملکیت سے نکال کر اجتماع کی ملکیت میں دینے کا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اپنی تقریر میں واضح لفظوں میں کہا کہ یہ زمینیں تمھاری ملکیت نہیں ہیں۔ اگر وہ تمھاری ملکیت ہوتیں تو میں ان کو چھیننا اپنے لئے جائز نہ سمجھتا۔ قد سمعتم کلام ھولاء القوم الذین زعموا انی اظلمھم حقوقھم وانی اعوذ باللہ ان ارکب ظلمھا۔ لئن کنت ظلمتھم شیئا ھو لھم واعطیتہ غیرھم لقد شقیت الفاروق عمر، از محمد حسنین ہیکل الجزء الثانی صفحہ ۲۹۶ تم لوگوں نے ان فوجیوں کی گفتگو سنی جن کا خیال ہے کہ میں ان کے حقوق غصب کر رہا ہوں۔ میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ کسی کا حق غصب کروں۔ اگر میں ایسا کروں کہ ایک چیز جوان کی ہو، اس کو لے کر کسی دوسرے کو دے دوں تو میں شقی ہوں گا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اجتماعی ملکیت کے نظریہ کی تردید ہے۔ کیونکہ اس میں خلیفہ دوم صاف لفظوں میں فرما رہے ہیں کہ مجھ کو (بالفاظ دیگر حکومت کو) تمھاری کسی ملکیت کو منسوخ کرنے کا حق نہیں ۔ اگر میں ایسا کروں، تو میں شقاوت کا مرتکب ہوں گا۔ یہ واقعہ اس کے برعکس بات ثابت کر رہا ہے جس کے لئے اسے پیش کیا جاتا ہے۔ ■■■

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page