ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں
Urdu book, p. 246
By Maulana Wahiduddin Khan
ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں ایک حدیث ہے: عن ابي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ایمان کے ستر سے زیادہ وسلم الايمان بضع وسبعون شعبة، فا فضلها شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کا کہنا قول لا اله الا الله، وادناها اماطة الأذى عن ہے اور سب سے کم راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا الطريق والحياء شعبة من الايمان ہے۔ اور حیا بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔ (رواه السته وغيرهم بالفاظ مختلفة) اس حدیث میں ستر کا عدد محض زیادتی کے مفہوم کو بتانے کے لئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض روایتوں میں دوسرے اعداد بھی آئے ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں ۷۷ کا عدد بتایا گیا ہے۔ مگر لوگوں کو ہمیشہ یہ شوق رہتا ہے کہ حقیقتوں کو مقدار کی اصطلاحوں میں بیان کرسکیں، اس لئے بہت سی طبیعتیں اس تلاش میں لگ گئیں کہ وہ ستر شاخوں کی گنتی کریں، حتیٰ کہ ان ستر شاخوں کے تعین کے لئے علماء نے بہت سی مستقل کتابیں لکھ ڈالیں۔ مثلاً فوائد المنہاج از ابو عبداللہ حلیمی، شعب الايمان از بیهقی، شعب الايمان از عبد الجلیل، کتاب النصائح از اسحاق بن قرطبی، وصف الايمان از ابو حاتم د طیرہ۔ امام ابو حاتم بن حبان فرماتے ہیں کہ میں ایک مدت تک اس حدیث کا مطلب سوچتا رہا۔ جب عبادتوں کو گنتا تو وہ ستر سے بہت زیادہ ہوجاتیں۔ احادیث میں چھان بین کرتا اور حدیث میں جن چیزوں کو نام لے کر ایمان کی شاخوں کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، ان کو گنتا تو وہ اس عدد سے کم ہوجاتیں۔ قرآن کی طرف متوجہ ہوا اور قرآن میں جن چیزوں کو ایمان کے ذیل میں ذکر کیا گیا ہے، ان کو شمار کیا تو وہ بھی ستر سے کم نکلا۔ اس کے بعد میں نے قرآن اور حدیث دونوں کو جمع کیا۔ دونوں میں جن چیزوں کو ایمان کا جزء قرار دیا گیا ہے، ان کو گنا، جو چیزیں دونوں میں مشترک تھیں ان کو ایک ایک عدد شمار کرکے میزان نکالی تو دونوں کا مجموعہ، مکروات کو الگ کرکے، اس عدد کے موافق ہوگیا۔ کچھ دوسرے لوگ جو ساری کوششوں کے بعد خود اپنی فہربست ایمان کو ۷۰ یا ۷۷ کے موافق نہ بناسکے، انھوں نے کہہ دیا کہ اللہ ورسول اعلم۔ قاضی عیاض کہتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان شانوں کی تفصیل بیان کرنے کا اہتمام کیا ہے اور اجتہاداً سے ان تفصیلات کے مراد ہونے کا حکم لگایا ہے، حالانکہ اس مقدار کی تعین معلوم نہ ہونے سے ایمان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔ خطابی لکھتے ہیں کہ اس تعداد کی تفصیل اللہ اور اس کے رسول کے علم میں ہے اور شریعت مطہرہ میں موجود ہے ساس لئے تعین کے ساتھ ان کی تعداد کا معلوم نہ ہونا کچھ مضر نہیں۔ نووی لکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان شاخوں میں سب سے اعلیٰ توحید کو قرار دیا ہے اور سب سے نیچے سے راہ دفع کرنا ہے، اس جہت کا کسی مسلمان کو نقصان نہ پہنچانا، اس حیا نے کا احتمال رکھتی ہے۔ باقی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader