Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

پر ایمان لانا ضرورری ہے مگر ان کی تفصیل اور ان کے نام ہم نہیں جانتے۔ حقیقت کو مقداری اصطلاحوں میں بیان کرنا کوئی سادہ سی بات نہیں ہے، اس کے بعد پورے دین کا تصور ہی بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر احادیث میں بعض کلمات واذکار کی فضیلت آئی ہے۔ مثلاً ایک حدیث ہے : عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والذی نفسی بیدہ لو جئتی بالسموات والأرض ومن فيهن وما بينهن وما تحتهن توضعت في كفة الميزان ووضعتُ شهادة ان لا اله الا الله في الكفة الأخرى لَرَجَحَتُ بهن اخرجه الطبراني نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تمام آسمان وزمین لائے جائیں اور جو لوگ ان میں ہیں اور جو چیزیں ان کے درمیان ہیں یا ان کے نیچے ہیں، سب کا سب ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یقیناً وہ جھک جائے گا۔ حقیقت کو مقداری اصطلاح میں بیان کرنے کا ذہن، اس قسم کی احادیث کے سلسلے میں، سب سے پہلے یہ کرتا ہے کہ ”گواہی دینے“ کو ”پڑھنے کے معنے میں لے لیتا ہے۔ حالانکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص محبت کی تعریف میں کہے : محبت نام ہے اپنی زبان سے یہ جملہ بولنے کا۔ ” میں تم سے محبت کرتا ہوں“ اب اگر ایک باپ کو اپنے بیٹے سے محبت ہے تو اس کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ کسی گوشہ میں بیٹھ کر ایک لاکھ بار محبت کا ورد کر لیا کرے۔ اس کے بعد دوسری شدید تر غلطی اس وقت شروع ہوتی ہے جب اس ذہن کے سامنے وہ روایتیں آتی ہیں جن میں ذکر اور استغفار کے کلمات کی کثرت کی تلقین کی گئی ہے۔ مثلاً فرمایا: باقیات صالحات (مریم) کو کثرت سے کہا کرو۔ پوچھا گیا وہ کیا ہیں۔ فرمایا تکبیر، تہلیل، تسبیح، تحمید اور لاحول ولاقوة۔ اسی طرح ایک روایت ہے: عن ابی بکر بن الصديق عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكم بلا اله الا الله والاستغفار فأكثروا منها نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لا الہ الا اللہ اور استغفار تمھارے لئے ضروری ہیں، پس ان میں کثرت کرو۔۔ کہنے یا شہادت دینے کو ”پڑھنے“ کے معنی میں لینے کے بعد قدرتی طور پر یہ ہوتا ہے کہ ذکر کی کثرت ” ورد کی کثرت“ کے معنی میں ڈھل جاتی ہے۔ اب اس کا مطلب یہ ہو جاتا ہے کہ ذکر کے مسنون اور غیر مسنون کلمات کو یاد کر لیا جائے اور ان کو تسبیح کے دانوں پر شمار کیا جاتا رہے۔ ایسے ایسے مشائخ فن پیدا ہونے لگتے ہیں جن کے ذکر کی مقدار لاکھوں سے گزر کر کروڑوں کی گنتی تک پہنچ جاتی ہے۔ جامع الاصول میں لکھا ہے کہ لفظ اللہ کا ذکر ورد کے طور پر کم از کم پانچ ہزار روزانہ کی مقدار ہے۔ اور زیادہ کے لئے کوئی حد نہیں۔ صوفیاء کے لئے کم از کم پچیس ہزار روزانہ کی مقدار ہے۔ لا الہ الا اللہ کی مقدار کے متعلق لکھا ہے کہ کم از کم پانچ ہزار روزانہ ہونا چاہئے۔ شاہ ولی اللہ نے قول جمیل میں اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ میں ابتدائے سلوک میں ایک سانس میں لا الہ الا اللہ دو سو مرتبہ کہا کرتا تھا۔ صوفیاء کے یہاں ایک اصطلاح وضع ہوئی جس کو پاس انفاس کہا جاتا ہے یعنی اس بات کی مشق کہ کوئی سانس اللہ کے ذکر کے بغیر نہ اندر جائے نہ باہر آئے۔ کروڑوں لوگوں نے ریاضت کرکے باقاعدہ اس کی مشق حاصل کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page