خدا کا قانون
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا قانون ان الذین کفروا وصدوا عن سبیل اللہ بے شک جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کے راستے سے وشاقوا الرسول من بعد ما تبین لہم الھدیٰ روکا اور رسول کی مخالفت کی جب کہ ہدایت ان پر لن یضروا اللہ شیأً وسیحبط اعمالہم واضح ہو چکی تھی، وہ اللہ کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکیں گے ( محمد ۳۲ ) اور اللہ ان کے اعمال کو ڈھا دے گا۔ اس آیت میں اور اس نوعیت کی دوسری آیتوں میں اللہ کے ایک نہایت اہم قانون کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ جو لوگ حق کا انکار کریں اور حق کے راستہ میں رکاوٹ ڈالیں اور حق کے داعیوں کے مخالف بن کر کھڑے ہوں، وہ حق کا اور حق کے علم برداروں کا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ ان کی تمام مخالفانہ کارروائیاں عین قانون خداوندی کے تحت ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں گی۔ مگر اس کی ایک لازمی شرط یہ ہے۔ وہ یہ کہ یہ مخالفین وہ ہوں جن پر ہدایت کی تبیین کی گئی ہو۔ جن کے اوپر امر حق پوری طرح واضح کیا جا چکا ہو۔ اس شرط کا تعلق مخالفین سے نہیں ہے۔ بلکہ اس کا تعلق خود حق کے داعیوں سے ہے۔ حق کے داعیوں کی طرف سے اگر یہ شرط پوری کر دی گئی ہو تو یہ اس بات کی ضمانت ہے کہ دشمنان حق کی کوئی بھی سازش یا کوئی بھی مخالفانہ کارروائی اہلِ حق کے اوپر کارگر نہ ہو سکے گی۔ وہ اپنی تمام تدبیروں کے با وجود یقینی طور پر اس میں ناکام رہیں گے کہ حق کے داعیوں کو کوئی واقعی نقصان پہنچا سکیں۔ جب کچھ لوگ خالص حق کی دعوت لے کر اٹھیں اور اس کے تمام آداب و شرائط کے ساتھ اس کو تکمیل تک پہنچائیں تو اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ خلقِ ثانی کے اندر جتنی سعید روحیں ہوتی ہیں، وہ سب اللہ کی توفیق سے حق کو قبول کر کے حق پرستوں کے گروہ میں شامل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح ان کی طاقت میں بہت زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اور جو لوگ تبیین کے باوجود حق کے منکر بنے رہیں، وہ اپنی دانستہ سرکشی کی بنا پر اس کے مستحق ہو جاتے ہیں کہ اللہ انھیں پکڑ لے اور ان کو مغلوب کر کے اہلِ حق کو ان کے اوپر غلبہ عطا کر دے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader