Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ذكرودعاكيحقيقت

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

اللهم انت عبدي و انا ربك خدایا تو میرا بندہ ہے اور میں تیرا رب ہوں۔ لفظوں کے اعتبار سے دیکھیے تو یہ کفر کا کلمہ ہے۔ مگر یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کو اتنے پسند آگئے کہ اس کو خدا کے مقبول بندوں میں شامل کر دیا گیا۔ کیونکہ حدیث کے الفاظ میں ”اللہ ہمارے ظاہر کو نہیں دیکھتا، وہ ہمارے قلب اور ہمارے باطن کو دیکھتا ہے“ دعا اور ذکر دین کی سب سے اعلیٰ حقیقتیں ہیں۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ کچھ پر اسرار قسم کی عربی منتر خلیفہ ثانی کی نصیحت حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانہ میں عراق پر شاہان کسریٰ کا قبضہ تھا۔ اس وقت جس بادشاہ کی حکومت تھی اس کا نام یزد جرد تھا۔ عراق کے ساتھ لڑائی کے زمانہ میں ایک بار خلیفہ ثانی نے ارادہ کیا کہ وہ خود محاذ جنگ پر جاکر اسلامی فوجوں کی کمان کریں، مدینہ میں مشورہ ہوا۔ اکثر مسلمانوں کی رائے ہوئی کہ آپ کو خود جانا چاہئے۔ مگر خواص نے رائے دی کہ آپ دار السلطنت میں ٹھہریں اور یہاں رہ کر لشکروں کی روانگی کا انتظام کریں، یہی زیادہ بہتر ہے۔ دوسری رائے کے حق میں فیصلہ ہوا اور سعد بن ابی وقاص کو عراق روانہ کیا گیا جہاں اس وقت قادسیہ کے مقام پر جنگ ہو رہی تھی۔ حضرت سعد روانہ ہونے لگے تو حضرت عمرؓ نے ان کو وصیت فرمائی۔ اس وصیت کا خلاصہ یہ تھا : ”سعد ! تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈالے کہ تم رسول اللہ ہیں۔ ان کوٹڑ کر خاص خاص وقت میں دہرا دو، اور محل کے دروازے کھل جائیں گے۔ دعا کی حقیقت بندے کا اپنے مالک کو پکارنا ہے۔ اسی طرح ذکر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کا خوف اور محبت اس طرح دل پر چھایا جائے کہ ہر وقت اس کی یاد آتی رہے ۔ دعا اور ذکر وہی افضل ہے جو دل کی گہرائیوں سے نکلے، خواہ وہ اپنی مادری زبان میں ہو۔ خواہ اونٹ والے کی طرح وہ بے ڈھنگے الفاظ میں کیوں نہ ادا ہوئی ہو۔ کے ماموں کہلاتے ہو اور آپ کے صحابی ہو۔ اللہ برائی کو برائی سے نہیں دھوتا بلکہ برائی کو بھلائی سے دھوتا ہے۔ اللہ اور بندوں کے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں۔ اس کے یہاں صرف اس کی بندگی مقبول ہوتی ہے۔ اللہ کے یہاں شریف رذیل سب برابر ہیں۔ سب اس کے بندے ہیں اور وہ سب کا رب ہے اس کے انعامات بندگی سے حاصل ہوتے ہیں۔ ہر معاملہ میں اس چیز کو دیکھنا جو رسول اللہ کا طریقہ تھا، وہی عمل کی چیز ہے۔ میری اس نصیحت کو یاد رکھنا۔ تم ایک بڑے کام کے لئے بھیجے جا رہے ہو۔ اس سے چھٹکارا صرف حق کے اتباع سے ہو سکتا ہے۔ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو خیر کا عادی بنانا۔ اللہ کے خوف کو اختیار کرنا۔ اور اللہ کا خوف دو باتوں میں جمع ہوتا ہے ۔ اس کی اطاعت میں اور گناہ سے پر ہیز کرنے میں ۔ اور اللہ کی اطاعت جس کو بھی نصیب ہوئی، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت سے محبت کے ذریعہ نصیب ہوئی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page