Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

جب آدمی خدا کی حمایت سے محروم ہو جاتا ہے

Urdu book, p. 252

By Maulana Wahiduddin Khan

جب آدمی خدا کی حمایت سے محروم ہو جاتا ہے عن خباب ابن الارت قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلوة فأطالها - قالوا يا رسول الله صليت صلوةً لم تكن تصليها - قال اجل - انها صلوة رغبة ورهبة واني سألتُ اللهُ نيها ثلثا فأعطاني ثنتين ومنعى واحدةً - سألته ان لا يلهلك امتى بسنة فأعطانيها وسألته ان لا يسلط عليهم عدقاً من غيرهم فأعطانيها وسألته ان لا يذيق بعضهم بأس بعض فمنعنيها (مسلم، ترمذی، نسائی) خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ ایک نماز پڑھی اور اس کو لمبا کیا۔ لوگوں نے کہا؛ اے خدا کے رسول آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپ نے اس سے پہلے نہیں پڑھی تھی۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ یہ امید اور خوف کی نماز تھی ۔ میں نے اس میں اللہ سے تین چیزیں مانگیں۔ اللہ نے دو چیزیں دے دیں اور ایک سے انکار فرمایا۔ میں نے درخواست کی کہ میری امت کو قحط سے ہلاک نہ کیا جائے۔ یہ قبول ہو گئی۔ میں نے درخواست کی کہ ان کے اوپر ان کے باہر کے دشمنوں کو مسلط نہ فرما۔ یہ قبول ہو گئی۔ میں نے درخواست کی کہ میری امت کے بعض کی طاقت کا مزا بعض کو نہ چکھائے ۔ مگر یہ منظور نہیں ہوئی۔ مسلمان اس سے محفوظ کر دیئے گئے ہیں کہ وہ ارضی و سماوی آفتوں سے ہلاک کئے جائیں ۔ وہ اس سے بھی محفوظ ہیں کہ ان کا کوئی خارجی دشمن ان کے اوپر مستقل قبضہ پالے۔ مگر ایک چیز ایسی ہے جہاں وہ خدا کی حفاظت میں نہیں ہیں۔ وہ یہ کہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی طاقت کا مزا چکھنا پڑے۔ یہی وہ اصل مقام ہے جہاں مسلمانوں کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ اگر یہاں بھی ان پر حفاظت قائم کر دی جاتی تو ان کا امتحان ختم ہو جاتا، اور یہ قیامت سے پہلے کسی کے ممکن نہیں۔ جب بھی ایسا ہو کہ ایک مسلمان اپنی طاقت کو دوسرے مسلمان کے خلاف استعمال کرنے لگے تو سمجھنا چاہئے کہ وہ اس حد میں داخل ہو گیا جہاں خدا نے اپنے رسول کی دعا کے باوجود اس کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو دکھ پہنچائے ، وہ موقع پاکس کے اوپر چڑھ دوڑے ، وہ اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس کو زک دینے کے درپے ہو جائے ، وہ اپنی حیثیت کو دوسرے مسلمان کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرے تو گویا یہ اس بات کی علامت ہے کہ آدمی اللہ کی پہریداری سے باہر نکل گیا۔ اب وہ شیطان کی حمایت میں ہے۔ اس نے اپنے آپ کو شیطان کے قابو میں دے دیا ہے اور شیطان اس کو اندھا بنا کر اس سے وہ کام کر رہا ہے جو اللہ نے اس کے لئے دائمی طور پر حرام قرار دیا تھا۔ کسی مسلمان کا دوسرے مسلمان کو اپنی طاقت کا مزہ چکھانا ، اس کے لئے خوشی کا نہیں بلکہ ماتم کا وقت ہے ایسا ہر واقعہ اس بات کا اعلان ہے کہ آدمی رسول کی شفاعت کے حق سے محروم ہو گیا ہے، اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے مقام پر کھڑا کر دیا ہے جہاں نہ اللہ اس کا ساتھی ہے اور نہ اللہ کا رسول۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page