Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

خدا کے دوست

Urdu book, p. 253

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کے دوست عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ اللہ تعالی نے فرمایا : جو میرے کسی دوست کے ساتھ دشمنی صلی اللہ علیہ وسلم : کرے تو میں اس کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیتا ہوں ۔ ان اللہ تعالی قال : من عادی لی ولیا میری کا سب سے زیادہ محبوب چیز جس سے میرا بندہ میری قربت فقد أذنته بالحرب وما تقرب الي عبدي بشیء حاصل کرتا ہے وہ ہے جو میں نے اس کے اوپر فرض کی ہے۔ احبّ الى مما افترضته عليه ولا يزال عبدي اور میرا بندہ نفل اعمال کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ يتقرب الى بالنوافل حتّى أحبّه فاذا احببته یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں كنت سمعه الذي يسمع به وبصره الذي يبصر اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے به ويده التى يبطش بها ورجله التى يمشى وہ سنتا ہے ۔ اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے۔ بها ولئن سألتي لاعطینّه ولئن استعاذني اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اس کا پاؤں لاعيذنّه (بخاری) بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں ضرور اس کو دیتا ہوں اگر وہ میری پناہ چاہے تو میں ضرور اس کو پناہ دیتا ہوں ۔ اللہ تعالی نے کچھ چیزیں بندوں کے اوپر فرض کی ہیں۔ مثلاً پانچ وقت کی نماز۔ سال میں مقرر شرح سے زکوٰۃ ، جائز حدود میں کمائی وغیرہ۔ مگر آدمی کا تعلق جب اللہ سے بڑھتا ہے تو اس کا عمل فرض کے دائرہ میں محدود نہیں رہتا۔ اللہ کی طرف بڑھی ہوئی توجہ اس کو مجبور کرتی ہے کہ وہ حد سے آگے بڑھ کر عمل کرے ۔ وہ پانچ وقتوں کے علاوہ اوقات میں بھی اللہ کو یاد کرتا رہتا ہے۔ وہ مقررہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہتا ہے ۔ وہ اللہ کے کام میں اتنا مشغول ہوتا ہے کہ جائز حدود میں کمائی کرنے کا موقع بھی اس کے لئے باقی نہیں رہتا ۔ کوئی آدمی جب اپنے کو اللہ میں اس طرح شامل کرتا ہے تو اس کا پورا وجود اللہ میں ڈھل جاتا ہے۔ وہ شعور کی اس سطح پر پہنچ جاتا ہے جہاں اس کا شعور اللہ کے شعور سے الگ نہیں رہتا۔ معاملات کا تجزیہ کرنا، معاملات کے بارے میں رائے قائم کرنا، معاملات میں تدبیریں اختیار کرنا، غرض اس کا ہر عمل سنت الہی کے مطابق ہو جاتا ہے۔ اللہ کا جو بندہ اپنے آپ کو اس طرح اللہ میں شامل کرلے وہ اللہ کا دوست بن جاتا ہے ۔ اللہ اس کے ساتھ وہ معاملہ کرتا ہے جو دوست کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ایسا بندہ خدا خواہ بظاہر کمزور ہو مگر اس کی پشت پر خدا کھڑا ہوتا ہے اس سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page