برائی کو روکو
Urdu book, p. 254
By Maulana Wahiduddin Khan
برائی کو روکو ما من قوم تعمل فیہم بالمعاصی ثم یقدرون علی ان یغیروا فلم یغیروا الا یوشک ان یعمہم اللہ تعالی بعقاب (ابو داؤد، ترمذی) والذی نفسی بیدہ لا تأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنکر او لیوشکن اللہ ان یبعث علیکم عقابا منہ ثم تدعونه فلا یستجیب لکم (ترمذی) کسی بھی قوم میں اگر گناہ کئے جائیں اور قدرت رکھنے کے باوجود لوگ گنہگاروں کو نہ روکیں تو قریب ہے کہ خدا ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور ہے کہ تم لوگ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ ورنہ جلد ہی خدا تم سب پر عذاب بھیج دے گا۔ پھر تم خدا کو پکارو گے مگر وہ تم کو کوئی جواب نہ دے گا۔ حدیث میں اس قسم کی جو ہدایتیں نقل ہوئی ہیں وہ اصلاً سماجی ہدایتیں ہیں نہ کہ سیاسی ہدایتیں۔ یعنی ان کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی حکمران کو "ظالم" قرار دے کر اس کے خلاف شور و غل کرو اور انصاف قائم کرنے کے نام پر اس کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلاؤ۔ اس قسم کی اسلامی سیاست محض موجودہ زمانہ کی سیاسی پارٹیوں کی نقل ہے۔ اس کا مذکورہ اسلامی ہدایات سے کوئی تعلق نہیں۔ ان ہدایات کا مخاطب معاشرہ کا ہر فرد ہے نہ کہ کوئی سیاسی نظام۔ کسی معاشرہ میں ہمیشہ تھوڑے آدمی ہوتے ہیں جو شرارت کرتے ہیں۔ اب اگر معاشرہ ایک زندہ معاشرہ ہو تو جب لوگ دیکھتے ہیں کہ ایک پڑوسی دوسرے پڑوسی کو ستارہاہے۔ ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کو تکلیف دے رہا ہے۔ ایک صاحب معاملہ دوسرے صاحب معاملہ کے حقوق ادا نہیں کرتا تو ایسے معاشرہ میں مظلوم کو خود اپنے آس پاس ایسے لوگ مل جاتے ہیں جو اس کی حمایت میں کھڑے ہوجائیں۔ وہ ظالم کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز آئے۔ ایسے سماج میں برائیاں پیدا ہوتی ہیں مگر وہ وہیں کی وہیں دبا دی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب لوگوں کا حال یہ ہو جائے کہ وہ اپنے سامنے ظلم و زیادتی کے واقعات دیکھیں مگر غیر جانب دار بن کر رہ جائیں تو دھیرے دھیرے ان خرابیوں سے ایسے فتنے ابھرتے ہیں جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ماحول کا دیا د سب سے بڑا وباء ہے۔ حتیٰ کہ حکومت اور عدالت سے بھی زیادہ۔ اگر آ س پاس کا ماحول ظالم کو رو کے اور مظلوم کی حمایت میں کھڑا ہو جائے تو کبھی برائیاں پھیل نہیں سکتیں۔ اس کے برعکس جب ماحول برائی کو دیکھنے کے باوجود خاموش رہے تو بیک وقت دو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک طرف ظالم کی حوصلہ افزائی اور دوسری طرف مظلوم کے اندر انتقام اور بے اعتمادی۔ یہ دونوں چیزیں وقت کے ساتھ بڑھتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ برائیاں بڑھ کر خود ان لوگوں کو جھلس دیتی ہیں جو اپنے کو مامون سمجھ کر ان کے معاملہ میں غیر جانب دار بن گئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader