احسن تقویم
Urdu book, p. 256
By Maulana Wahiduddin Khan
احسن تقویم قرآن کی سورہ نمبر ۹۵ (التین) میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو خدا نے احسن تقویم (بہترین ساخت) پر پیدا کیا ہے۔ مگر اس کے بعد خدائی نقشہ کے خلاف چلنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سب سے نچلے مقام پر جا گرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کیا ہے اور دنیا میں اس کا امتحان کس اعتبار سے لیا جا رہا ہے۔ انسان اپنی پیدائشی بناوٹ کے اعتبار سے جنت کا شہری ہے۔ وہ خدا کا وہی مطلوب انسان ہے جس کو وہ اپنی خصوصی نعمتوں کی دنیا میں بسانا چاہتا ہے۔ انسان عملاً وہی ہے جو اس کو ہونا چاہیے۔ پھر انسان کا امتحان کیا ہے۔ اس کا امتحان یہ ہے کہ دنیا میں آزادانہ ماحول پا کر وہ بگڑ نہ جائے۔ وہ اپنے آپ کو اسی حال میں پکا رکھے جس حال میں خدا نے اس کو ابتداؤ پیدا کیا تھا۔ وہ اپنے شعور کو خدا کے تخلیقی نقشہ کا چوکیدار بنالے۔ جو لوگ ایسا کریں کہ خدا نے جس شخصیت کے ساتھ انہیں پیدا کیا تھا اسی شخصیت کو لیتے ہوئے وہ خدا تک پہنچیں وہ خدا کی جنت کے باشندے قرار دئے جائیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ خدا کی بنائی ہوئی شخصیت کو محفوظ نہ رکھ سکیں وہ جنت میں بننے کیلئے نااہل ٹھہریں گے۔ وہ کائناتئی کوڑا خانہ میں پھینک دئے جائیں گے۔ مثال کے طور پر خدا کی تخلیق کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نے انسان کے سینہ میں دو دل نہیں بنائے (الاحزاب) اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی تخلیقی اسکیم میں دو عملی کی کوئی گنجائش نہیں۔ دو دل والا انسان خدا کی پسند کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اب جو شخص ایسا کرے کہ اپنے ذہن میں متضاد افکار کو جمع کرے ۔ مثلاً وہ ایک خدا کی بڑائی کا اقرار کرے اور اسی کے ساتھ وہ انسان کی بڑائی میں گم ہو۔ وہ ایسی زندگی گزارے جس میں اپنوں کے لئے کچھ ہو اور غیروں کے لئے کچھ۔ جہاں مفاد کا لالچ یا دباؤ کی مجبوری ہو وہاں وہ ایک رویہ اختیار کرے اور جہاں مفاد یا دباؤ کا پہلو نہ ہو وہاں وہ بالکل دوسرا انسان بن جائے۔ جس آدمی نے اپنے فکر و عمل کے لئے اس قسم کے دو معیار بنارکھے ہوں وہ گویا احسن تقویم پر قائم نہیں۔ وہ خدا کی امانت کا نگہبان نہ بن سکا۔ اس نے خدا کی دی ہوئی شخصیت کو داغدار کر لیا۔ ایسا آدمی قرآن کے الفاظ میں اسفل السافلین میں داخل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے آپ کو دو عملی اور تضاد فکری سے بچاتے ہوئے اس دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader