Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

خدا کی یاد

Urdu book, p. 257

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا کی یاد قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے ایمان والو اللہ کا بہت ذکر کرو( یا ایہا الذین آمنوا اذکروا الله ذكراً كثيراً، الاحزاب (۴۱) اس کا مطلب بعض لوگ یہ لیتے ہیں کہ خوب زیادہ اللہ کرو۔ " اللہ " کا لفظ ہزاروں بار دہرائو۔ مگر اس قسم کے ذکر کا مذکورہ آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن میں ذکر کسی قسم کی لفظی تکرار کے معنی میں نہیں ہے بلکہ یاد کے معنی میں مذکورہ آیت کا مطلب ہے ــــ اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ قرآن میں دوسرے مقام پر ہے کہ میرا ذکر کرو، میں تمھارا ذکر کروں گا(فاذکرونی اذکرکم، البقرۃ (۱۵۲) اس آیت میں خدا اپنے بندوں سے کہہ رہا ہے کہ تم میرا ذکر کرو اور میں تمھارا ذکر کروں گا۔ ظاہر ہے کہ یہاں ذکر کو تکرار الفاظ کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ کیوں کہ خدا ایسا نہیں کرے گا کہ بندہ بندہ بار بار کہہ کر کسی کا ذکر کرے۔ یہاں ذکر لازی طور پر یاد کے معنی میں ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ موت کا بہت زیادہ ذکر کرو (اکثر واذكر هادم اللذات ) اس حدیث میں بھی ذکر لفظی تکرار کے معنی میں نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ ایسا کوئی بھی نہیں کرے گا کہ بیٹھ کر موت، موت، کہنے لگے۔ اس حدیث میں یقینی طور پر موت کا ذکر کرنے کا مطلب موت کو یاد کرنا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی آواز بہت اچھی تھی۔ قرآن پڑھتے تو لوگ ہر تن کو گوش ہوکر سنتے، ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: ابو موسیٰ کو آل دائود کی خوش الحانی دی گئی ہے (لقد اوتی ابو موسٰی مزماراً من مزامير آل داؤد ) روایات میں آتا ہے کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ملاقات حضرت ابو موسیٰ اشعری سے ہوتی تو اکثر ان سے کہتے کہ اے ابو موسیٰ، ہمارے رب کو ہمیں یاد دلاؤ ( یا ابا موسٰی ذکرنا ربنا عز وجل) حضرت عمر کے اس قول میں بھی ذکر کسی قسم کے تکرار لفظی کے معنی میں نہیں ہے۔ یعنی حضرت عمر کی منشا یہ نہیں تھی کہ حضرت ابو موسی ان کے پاس بیٹھ کر اللہ اللہ یا رب، رب کریں۔ اس فقرہ میں ذکر کا لفظ یاد کے معنی میں ہے۔ یعنی قرآن کا کوئی حصہ پڑھ کر ہمیں خدا کی یاد دلاؤ۔ لغت میں ذکر کے معنی یاد کے ہیں۔ اس لفظ کا یہی مفہوم شریعت میں بھی ہے۔ ذکر سے مراد اللہ اور اس باتوں کی یاد ہے۔ یعنی آدمی کو خدا سے اتنا گہر انساق ہو جائے کہ وہ اس کے دل و دماغ میں سما جائے۔ وہ ہر موقع پر اس کو یاد آتا رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page