جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت میں کون لوگ آباد کئے جائیں گے آخرت کا گھر ہم ان لوگوں کو دیں گے جو زمین میں نہ بڑا بننا چاہتے ہیں اور نہ فساد کرنا۔ اور عاقبت صرف ڈرنے والوں کے لئے ہے۔ جو شخص بھلائی لے کر آیا تو اس کو ملے گا اس سے بہتر اور جو بدی لے کر آیا تو ایسے لوگوں کو جو بدی کے کام کرتے ہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنا وہ کرتے تھے (قصص ۸۳-۸۴) موجودہ زندگی میں جو لوگ اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ گھمنڈ کی نفسیات سے پاک ہیں اور وہ بگاڑ کا مزاج نہیں رکھتے ہیں، ان کو جنت کی نفیس اور لطیف آبادیوں میں بسایا جائے گا۔ اس کے برعکس جو لوگ گھمنڈ کو اپنی غذا بنائیں، جن کی فسادی کارروائیوں سے ان کے پڑوسیوں اور ان کے متعلقین کو امن حاصل نہ ہو وہ جہنم کے پر عذاب ماحول میں پھینک دئے جائیں گے۔ بڑا بننے کا مطلب کیا ہے؟ کوئی بھی شخص خدا کے مقابلہ میں اپنے کو بڑا نہیں بتاتا۔ نہ کوئی یہ دعویٰ لے کر اٹھتا کہ وہ زمین و آسمان یا سورج اور چاند سے بڑا ہے۔ بڑائی کا اظہار ہمیشہ انسان کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ آدمی کا بڑا بننا یہ ہے کہ وہ اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے اوپر اپنا اقتدار قائم کرے۔ حالاں کہ وہ صرف عاجز اور بے طاقت وجود کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ وہ کسی انسان کی طرف سے آئی ہوئی تنقید کے اوپر پھر اٹھے۔ حالاں کہ کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو تنقید سے بالاتر ہو۔ اس کے پاس حق کا پیغام آئے تو وہ اس کو ماننے سے انکار کر دے حالاں کہ عبدیت کا تقاضا ہے کہ آدمی حق کے آگے جھک جائے۔ کسی کے زبان یا قلم سے اس کے احساس برتری کو ٹھیس پہنچے تو وہ اس کو بخشنے کے لئے تیار نہ ہو۔ حالاں کہ برتری کا حق اس دنیا میں صرف ایک اللہ کو ہے۔ زمین میں فساد برپا کرنا یہ ہے۔ یہ کہ معاملات اور برتاؤ میں ایسا رویہ اختیار کیا جائے جو خدا کی مقرر کی ہوئی حدود کے خلاف ہو۔ قرآن کے مطابق فساد کی کچھ صورتیں یہ ہیں: اللہ سے ڈر نہ کر زندگی گزارنا (اعراف ۸۹) اللہ کے راستہ سے روکنا (نحل ۸۸) دلیل آجانے کے بعد اس کو نہ مانना (آل عمران ۱۹۳) دامی کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کرنا (اعراف ۴۰) کرشمے دکھا کر لوگوں کو حق سے پھیرنا (یونس ۸۱) کبر اور ظلم کی وجہ سے حق کا انکار کرنا (نمل ۱۴) شریف آدمیوں کو بے عزت کرنا (نمل ۴۳) چال بازی کا طریقہ اختیار کرنا (بقره ۱۱) رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا (محمد ۲۲) دوسرے کا مال چرانا (یوسف ۷۳) کھیتی کو ویران کرنا اور انسان کو قتل کرنا (بقره ۲۰۵) عہد کرنے کے بعد اس کو توڑنا (رعد ۲۵) اسراف کا طریقہ اختیار کرنا (شعراء ۱۵۴) مال و دولت پر فخر کرنا (قصص ۷۶) قوت و طاقت کا غلط استعمال کرنا (فجر ۱۲) کمزوروں کا استحصال کرنا (بقرہ ۲۰۵) باہمی لڑائی پیدا کرنا (مائدہ ۵۶) اختلاف وانتشار برپا کرنا (اعراف ۱۴۲) ناپ تول میں کمی کرنا (ہود ۸۵) کسی کی نسل ختم کرنے کی کوشش کرنا (قصص ۴) مال کو صرف دنیا کے مقاصد میں خرچ کرنا (قصص ۷۷) وغیرہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader