Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

کون لوگ جہنم میں جائیں گے

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

کون لوگ جہنم میں جائیں گے جنت والے جہنمی والوں سے کہیں گے: تم کو کس چیز نے جہنم میں پہنچایا۔ وہ جواب دیں گے __ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور نہ محتاج کو کھانا کھلاتے تھے اور ہم بحث کرنے والوں کے ساتھ بحث کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ آپنچی ہم پر موت۔ (مدثر ۴۶ - ۴۷) ان آیات میں چار چیزوں کو جہنم میں جانے کا سبب بتایا گیا ہے : نمازی نہ ہونا ، محتاجوں کا سہارا نہ بننا ، حق کی دعوت کے خلاف فضول بحثیں نکالنا ، روزِ جزا کو نہ ماننا ۔ اس کے برعکس انجام ان لوگوں کا ہوگا جنھوں نے اپنی زندگیوں میں نماز کو داخل کیا ہو ، کم زور اور بے سہارا لوگ جن کے دلوں میں اپنے لئے نرم گوشہ پاتے ہوں، جن کا سینہ حق کی آواز کے لئے ہمیشہ کھلا رہتا ہو۔ جو یہ سمجھ کر دنیا میں زندگی گزارتے ہوں کہ ایک روز ان کو عالم الغیب کے سامنے حاضر ہونا ہے، ایسے لوگوں کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی ۔ وہ خدا کے باغوں میں ہمیشہ کے لئے داخل کر دیئے جائیں گے ۔ نماز کیا ہے۔ اللہ کے آگے جھک جانا ، اللہ کو اپنا سب کچھ بنا لینا ۔ جب آدمی اس طرح اپنے رب کو پال لیتا ہے تو وہ روزانہ پانچ وقت متعین صورت میں اور دیگر اوقات میں غیر متعین صورت میں " نماز" پڑھتا رہتا ہے۔ اللہ کی یاد اس کے دل میں سما جاتی ہے ۔ وہ ہردوقبت اللہ کی باتوں میں ڈوبا رہتا ہے ۔ اس کی پوری زندگی اور اس کے تمام معاملات میں اللہ کا رنگ اس طرح چھایا جاتا ہے کہ کسی وقت اس سے جدا نہیں ہوتا۔ " محتاج کو کھانا کھلانا " اس تعلق کی ایک علامت ہے جو ایک بندہ خدا کو دوسرے انسانوں سے ہونی چاہئے۔ ایمان آدمی کے اندر جو گھلاوٹ اور اخروی جواب دہی کا جو احساس پیدا کرتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کمزورؤں اور محتاجوں کے لئے اس کا دل نرم پڑ جاتا ہے ۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے سامنے ہمہ تن عاجز محسوس کرتا ہے اس لئے ہر وہ شخص جو اس کو عجز کی حالت میں نظر آئے ، اس سے اس کو ہمدردی ہو جاتی ہے ۔ وہ بے تابانہ طور پر چاہتا ہے کہ اس کا خدا اس کا سہارا بنے اس لئے اس کے لئے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ اس سے مختلف سلوک کرے جو وہ اپنے رب سے اپنے لئے چاہتا ہے۔ دعوتِ حق کے خلاف ایسی بحثیں نکالنا جس سے لوگ اس کی صداقت کے بارہ میں شبہ میں پڑ جائیں ، اللہ کے نزدیک بدترین جرم ہے۔ دعوت حق کا ظہور دراصل خدا کا ظہور ہے۔ جو لوگ حق کی آواز کو نہ پہچانیں ، انھوں نے گویا خدا کو نہیں پہچانا۔ جنھوں نے حق کی دعوت کے خلاف بحث و تکرار کی ، انھوں نے گویا خدا کے ساتھ زبان درازی کی جرات کی۔ ایسے لوگوں پر خدا سخت غضب ناک ہوتا ہے۔ وہ خدا کی رحمتوں سے سب سے زیادہ دور کر دئے جاتے ہیں۔ روزِ جزا کا یقین تمام نیکیوں کا سب سے بڑا محرک ہے۔ اور روزِ جزا پر یقین نہ ہو تو تمام برائیوں کی اصل جڑ ہے۔ جنت اس کے لئے ہے جو دنیا میں اس طرح رہے گویا کہ وہ آخرت کو دیکھ رہا ہے اور جہنم اس کے لئے جو دنیا میں اس طرح زندگی گزارے گویا کہ وہ آخرت کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتا ۔ وہ دنیا کو اپنی دنیا سمجھتا ہے نہ کہ خدا کی دنیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page