Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نجات کی دو شرطیں

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

نجات کی دو شرطیں آخرت میں نجات کن لوگوں کو حاصل ہوگی۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے دو شرطوں میں سے کم از کم ایک شرط کا ثبوت دیا ہو۔ اول وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے دین میں ظلم کو شامل نہیں کیا ؀ اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان میں کوئی ظلم نہیں ملایا انھیں کے لئے امن ہے اور وہی سیدھی راہ پر ہیں (انعام ۸۳) یہاں ایمان سے مراد وہ ایمان ہے جو آدمی کے لئے یقین کے ہم معنی بن جاتا ہے اور ظلم سے مراد شرک ہے۔ جو لوگ اللہ کو اس طرح پائیں کہ وہ ان کی نفسیات کا جز بن کر ان کے اوپر چھا جائے ۔ وہ ان کے دل ودماغ کو اپنے احاطہ میں لے لے۔ ان کا ایمان اور ان کا سوچنا اور چاہنا الگ الگ نہ رہیں بلکہ دونوں ایک ہو جائیں۔ ان کا یقین و اعتماد، ان کا خوف و محبت، ان کی دلچسپیاں اور وفاداریاں سب اسی کے لئے ہو جاتیں جو ان کا ایمان بااللہ ان سے تقاضا کرتا ہے۔ ایسے لوگ اعلیٰ ترین معنی میں ہدایت یافتہ مومن ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ میں جیتے ہیں۔ ان کا سب کچھ اللہ بن جاتا ہے۔ وہ دنیا کی زندگی ہی میں خدا کی پناہ میں آ چکے ہوتے ہیں۔ اور جو دنیا ہی میں خدا کی پناہ حاصل کر چکا ہو اس کے متعلق کون شبہ کر سکتا ہے کہ وہ آخرت میں محروم ہو گا۔ دوسرا درجہ وہ ہے جس کو اعتراض کہا گیا ہے ؀۔ اور کچھ اور لوگ ہیں جنھوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا۔ انھوں نے نیک عمل کے ساتھ برا عمل ملا دیا۔ بعید نہیں کہ اللہ انھیں معاف کر دے۔ وہ بخشنے والا مہربان ہے (توبہ ۱۰۲) پہلے گروہ کے لئے اگر "عمل" باعث نجات بنے گا تو دوسرے گروہ کے لئے "اعتراف"۔ آدمی کو اپنے رب کے سامنے یا کامل عمل پیش کرنا ہے یا کامل اعتراف۔ ان دو کے بعد نجات کا کوئی تیسرا درجہ نہیں۔ آدمیوں میں کچھ مضبوط ارادہ کے لوگ ہوتے ہیں اور کچھ کمزور ارادہ کے لوگ۔ مضبوط ارادہ کے لوگ جب دل سے اللہ کا اققرار کر لیتے ہیں تو ان کا عمل ان کے اقرار سے الگ نہیں رہتا۔ وہ اپنے عمل میں بھی وہی بن جاتے ہیں جو وہ اپنے دل کے اندر بنے ہیں۔ مگر کمزور ارادہ کے لوگ اپنے اقرار اور اپنے عمل میں اتنی یکسانی پیدا نہیں کر پاتے ۔ وہ بار بار شیطان اور نفس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگوں کے لئے بھی اللہ کے یہاں رحمتوں کا سایہ ہے۔ مگر یہ سایہ اس شرط پر ہے کہ انھوں نے ڈھٹائی کے بجائے اعتراف کا ثبوت دیا ہو۔ انھوں نے غلطیوں کا سہارا لینے کے بجائے غلطی پر اقرار کیا ہو۔ وہ بحث کرنے کے بجائے مغلوب ہو گئے ہوں۔ جب ان کی کوتاہیوں کا انشان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page