Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

آخرت کے بدلے دنیا

Urdu book, p. 264

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کے بدلے دنیا ان الذین یکتمون ما انزل اللہ من الکتاب جو لوگ اللہ کی اتاری ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور یشترون بہ ثمنا قلیلا اولئك ما یا کلون اس کے بدلے میں تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں، فی بطونہم الا النار ولا یکلمہم اللہ یوم القیامۃ وہ اپنے پیٹوں میں صرف آگ بھرتے ہیں۔ اللہ قیامت ولا یزکيهم ولہم عذاب الیم۔ اولئک الذین کے دن ان سے بات نہ کرے گا اور نہ ان کو پاک اشتروا الضلالة بالھدی والعذاب کرے گا اور ان کے لئے دکھ بھرا عذاب ہے۔ یہ وہ بالمغفرة فما اصبرہم علی النار لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (البقرہ ۵، - ۱۴۷) اور نجات کے اوپر عذاب کو ترجیح دی۔ وہ کس قدر جری ہیں آگ کے اوپر۔ یہود کے علماء آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق کی دعوت اٹھائی تو وہ اپنے علم کی بنا پر سمجھ گئے کہ یہ خالص حق کی دعوت ہے۔ مگر اس کے باوجود انھوں نے اس کا اقرار نہ کیا۔ ان میں سے بہت لوگ آپ کے مخالف بن کر کھڑے ہو گئے اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کی دعوت کو ماننے میں انھیں اپنی دنیا ملتی ہوئی نظر آتی تھی۔ ایک عرصہ کی روایات کے نتیجہ میں قوم کے اندر ان کی بڑائی قائم ہو چکی تھی۔ دینی پیشوائی کے نام پر وہ عوام کا مرجع بنے ہوئے تھے۔ جب بھی کوئی شخص دینی جذبہ سے کوئی رقم خرچ کرتا تو وہ اس کو انھیں علماء کو یا ان کے ادارہ کو دیتا۔ ایسی حالت میں علماء یہود کو محسوس ہوا کہ رسول اللہ کو رسول ماننے کے بعد یہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔ اس میں انھیں اپنی حیثیت کی نفی نظر آئی۔ انھوں نے بشعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سوچا کہ جب ہم یہ اعلان کر دیں گے کہ حق وہ ہے جس کو محمد بن عبداللہ پیش کر رہے ہیں تو اس کے بعد یہ ہو گا کہ جو لوگ حق کے نام پر ہماری طرف راغب ہیں وہ محمد بن عبداللہ کی طرف راغب ہو جائیں گے اور ہماری کوئی قیمت لوگوں کے درمیان باقی نہ رہے گی۔ اللہ کی نظر میں یہ بہت بڑا جرم ہے۔ یہ جنت کے بدلے جہنم کو ترجیح دینا ہے۔ ایسا آدمی آخرت میں اسی چیز کو پائے گا جس کو اس نے دنیا میں اپنے لئے پسند کیا تھا۔ آخرت میں خدا اس کو نظر انداز کر دے گا جس طرح دنیا میں اس نے خدا کو نظر انداز کیا تھا۔ اللہ اس کی طرف نہ دیکھے گا، کیونکہ اس نے اللہ کی طرف نہیں دیکھا۔ کیسا عجیب انجام ہے جس طرف یہ لوگ چلے جا رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page