خدا کا سرا اس وقت آدمی کے ہاتھ آتا ہے جب
Urdu book, p. 265
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کا سرا اس وقت آدمی کے ہاتھ آتا ہے جب خدا کی طرف بڑھنے میں دنیا کے سرے اس سے چھوٹ گئے ہوں حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر ارم میں پیدا ہوئے۔ مخالفین نے جب وہاں رہنا آپ کے لئے نامکم بنا دیا تو آپ اللہ کے حکم سے عرب کے صحرا میں پہنچے اور مکہ میں بیت اللہ کی تعمیر کی جو اس وقت ایک غیر آباد مقام تھا۔ اس موقع پر آپ کی زبان سے جو دعائیں نکلیں ان میں سے ایک یہ تھی : ربنا انی اسكنت من ذريتي بواد غير ذی زرع عند اے ہمارے رب میں نے اپنی اولاد کو تیرے محترم گھر کے بيتك المحرم ربنا ليقيموا الصلوة فاجعل پاس ایک میدان میں بسا دیا ہے جہاں کھیتی نہیں۔ اے افئدة من الناس تهوى اليهم وارزقهم من ہمارے رب تاکہ وہ نماز قائم رکھیں۔ پس تو کچھ لوگوں کے الثمرات لعلهم يشكرون - ربنا انك تعلم دل ان کی طرف مائل کر دے اور ان کو روزی دے پھلوں ما نخفی وما نعلان وما يخفى على الله من شيء في سے۔ تاکہ وہ شکر کریں۔ اے ہمارے رب تو جانتا ہے جو ہم الارض ولا في السماء (ابراهیم ۳۸) چھپاتے ہیں اور جو ہم ظاہر کرتے ہیں، اور اللہ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں نہ زمین میں اور نہ آسمان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کا یہ واقعہ ایک علامتی واقعہ ہے۔ یہ تاریخ کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ایک بندہ خدا کے ساتھ اس وقت کیا پیش آتا ہے جب کہ وہ بے آمیز حق کی دعوت کو لے کر کھڑا ہو جائے ـ وقت کے قائم شدہ نظام میں وہ بے جگہ ہو جاتا ہے ، مذہبی ادارے اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، حتی کہ دوستوں اور رشتہ داروں کے لئے اس میں کوئی کشش باقی نہیں رہتی۔ دنیا کی ذی زرع دادیاں، اپنی تمام سرمسبری کے باوجود، اس کے لئے خشک ہو جاتی ہیں۔ وہ مجبور ہو جاتا ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر برباد معاشیات کی ایک زمین میں جا بسے اور اپنے رب سے کہے کہ : خدایا! تیرے سوا ان کا کوئی سہارا نہیں۔ انسانوں کی بنائی ہوئی دنیا نے ان کو رزق دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ اب تو ان کے قدموں کے نیچے سے ان کے لئے رزق کے چشمے جاری کر دے۔ یہ تاریخ انسانی کا نازک ترین لمحہ ہوتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کہ کائنات کی نبض رک جاتی ہے۔ زمین و آسمان کی گردشیں نئے حکم کا انتظار کرنے لگتی ہیں۔ انسانی تاریخ نئے تجربہ سے متعارف ہوتی ہے: بیابان میں "چشمے "پھوٹ پڑتے ہیں۔ چھتیں پھاڑ کر خدا کے خزانے اترتے ہیں۔ دای کی آواز ہواؤں کے دوش پر پھیلنے لگتی ہے۔ خدا اپنی طاقتوں کے ساتھ اپنے ان بندوں کی مدد پر اتر پڑتا ہے جن کو یہ حقیقت سمجھ کر دنیا والوں نے اپنی مدد سے محروم کر دیا تھا۔ بے آمیز دعوت کا کام اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ مگر یہی وہ کام ہے جو خدا کی مدد کو سب سے زیادہ کھنچنے والا ہے۔ اگرچہ یہ مدد اس وقت آتی ہے جب کہ دعوت کا اظہار اور اس کی پاداش میں داعی کی مظلومی، دونوں اپنی آخری انتہا پر پہنچ چکے ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader