Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

منافقت

Urdu book, p. 269

By Maulana Wahiduddin Khan

بٹھایا جائے، غرض یہ کہ مادی قیمت رکھنے والی کوئی چیز اگر ان کے حوالے کی جائے تو وہ ان امیدوں پر پورے نہیں اترتے جو ایسی کسی چیز کی حوالگی کے بعد شرعی یا اخلاقی طور پر ان سے کی جا سکتی ہیں۔ وہ بظاہر خوبصورت باتیں کریں گے ۔ مگر ان کی باتیں اخلاص کی گہرائی سے خالی ہوں گی ۔ وہ نمائشی اخلاق برتیں گے مگر ان کی زندگی میں حقیقی اخلاق کا کہیں پتا نہ ہوگا۔ مال میں خورد برد کرنا، وعدہ پورا نہ کرنا، جائیداد میں ناجائز تصرف کرنا، عہدہ کو شخصی مفاد کے لیے استعمال کرنا، یہ سب امانت میں خیانت ہے ۔ اور یہ تمام خیانتیں جس طرح یہودیوں میں پائی جاتی تھیں اسی طرح وہ ان تمام نام نہاد مسلمانوں میں بھی پائی جائیں گی جن کو قرآن و حدیث میں منافق کہا گیا ہے۔ یہودیت جھوٹی دین داری کا نام ہے اور اسی طرح منافقت بھی جھوٹی دین داری کا نام ۔ نفاق اور منافقین کے سلسلہ میں چند حدیثیں یہ ہیں : من عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : اربع من كن فيه كان منافقاً خالصاً ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من نفاق حتى يدعها. اذا أوتمن خان واذا حدث كذب وإذا عاهد غدر واذا خاصم فجر (متفق عليه)، زاد في رواية لمسلم : وان صام وصلى وزعم أنه مسلم - من عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جن کے اندر وہ ہوں وہ پورا منافق ہے۔ اور جس شخص کے اندر ان میں سے کوئی خصلت ہو تو اس کے اندر اسی کے بقدر نفاق ہوگا ، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ وہ خصلتیں یہ ہیں : جب وہ امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔ اور جب بولے تو جھوٹ بولے۔ اور جب وعدہ کرے تو پھر جائے۔ اور جب بحث کرے تو جھگڑنے لگے۔ ایک روایت میں مزید ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور سمجھے کہ میں مسلم ہوں۔ حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page