منافقت
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
اور اس کا عمل ظالمانہ ہو ۔ ( رواہ البہیقی ) عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ حضرت ابو ھریرہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم خصلتان لا تجتمعان اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو خصلتیں کبھی في منافق - حسن سمت ولا فقہ في منافق کے اندر جمع نہیں ہو سکتیں ۔ خوش خلقی الدين اور دین کا صحیح فہم ۔ قرآن میں متعدد مقامات پر نفاق اور منافق کی حقیقت بتائی گئی ہے ۔ ایک مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ منافقین وہ لوگ ہیں جن کے اندر روگ ہے : في قلوبهم مرض فزادهم اللہ مرضاً ان کے دلوں میں مرض ہے تو اللہ نے ان کے مرض ولهم عذاب اليم بما كانوا يكذبون کو بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (البقرہ - ۱۰) اس بنا پر کہ وہ جھوٹ کہتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمن بن زید بن اسلم نے کہا کہ اس سے مراد دین کا مرض ہے نہ کہ جسم کا مرض ( هذا مرض في الدين وليس مرضاً فى الاجساد) اس سلسلہ میں صحابہ و تابعین سے جو تفسیریں منقول ہیں ، ان میں سے ایک تفسیر میں مرض کو شک کہا گیا ہے ۔ اور دوسری تفسیر میں مرض کو ریا بتایا گیا ہے (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، صفحہ ۸۷ ) نفاق کی اصل جڑ یہی شک ہے۔ اس سے تمام منافقانہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔ منافق دکھاوے کی باتیں کرتا ہے ، کیوں کہ اس بارہ میں وہ شک میں مبتلا رہتا ہے کہ خدا اس کے دل کے حال تک سے باخبر ہے۔ منافق بغض وحد میں مبتلا ہوتا ہے ، کیوں کہ اس کو یقین نہیں ہوتا کہ جو کچھ کسی کو ملا ہے وہ اللہ کے دینے سے ملا ہے ، منافق برے اعمال کرتا ہے ، کیوں کہ وہ اس یقین سے خالی ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد وہ اللہ کے یہاں پکڑا جائے گا۔ منافق جھوٹی کارروائیاں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader