Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

جھوٹی شکایت

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

فقال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم۔ اجل فكيف اس نے کہا اے محمد، آج آپ نے جو کیا اس کو میں رأيت - فقال لم أرك عدلت - قال نے دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم نے فغضب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ثم قال کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ويحك - اذا لم يكن العدل عندی نے انصاف کیا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ فنعـدمـن يـكـون صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غضب ناک ہوگئے ۔ آپ (الجزء الرابع صفحہ ۱۲۴ ) نے فرمایا کہ تمہارا برا ہو۔ اگر میرے یہاں انصاف نہ ہو تو پھر کس کے یہاں انصاف ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں مذکورہ مسلمان نے جو بات کہی، وہ اپنے نزدیک اس کی مضبوط بنیاد رکھتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے دیکھا کہ جنگ میں انصار اور مہاجرین دونوں نے حصہ لیا۔ دونوں نے یکساں طور پر سر فروشی کی۔ مگر جب مالِ غنیمت کی تقسیم کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کچھ قریش کو اور عرب قبیلوں کو دے دیا۔ مدینہ کے انصار کو آپ نے کچھ نہیں دیا (روا عطی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما اعطی في قبائل قريش وقبائل العرب و لم يعط الانصار شيئاً ، صفحه ۱۲۵) اس معاملہ میں بہت سی باتیں ہوئیں۔ حتیٰ کہ حسان بن ثابت انصاری نے ایک نظم لکھی جس کو ابن ہشام نے نقل کیا ہے۔ اس کا پہلا شعر یہ تھا : زاد الهموم فماءُ العين مُنحَدِرٌ سَحّاً اذا احفَلَته عَبْرَةٌ دِرَرُ رنج و غم بڑھ گئے ، پس آنکھ کا پانی برابر بہہ رہا ہے، جب کہ یہ پانی بہتے ہوئے آنسوؤں نے جمع کیا ہے۔ یہ شکایت بظاہر درست ہونے کے باوجود اپنی حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط تھی۔ شکایت کرنے والے سارے معاملے کو بس شرکت جہاد کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ جب کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے اس کو مصلحتِ اسلام کے اعتبار سے دیکھا۔ شرکتِ جہاد عام حالات میں یقیناً قابلِ اعتبار ہے۔ مگر جب اس کا مقابلہ مصلحتِ اسلام سے ہو تو مصلحتِ اسلام کا پہلو مقابل ترجیح قرار پائے گا ــــــــ غلط زاویہ نگاہ سے دیکھنے میں ایک چیز نادرست نظر آسکتی ہے ۔ مگر صحیح زاویہ نگاہ سے دیکھے تو وہی چیز میں درست نظر آئے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page