جھوٹی شکایت
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
جھوٹی شکایت انسانی سماج میں جو چیز سب سے زیادہ عام ہے وہ جھوٹی شکایت ہے اور جو چیز اس سے بھی زیادہ عام ہے وہ ہے جھوٹی شکایت کو سن کر فورا اسے مان لینا۔ مگر یہ دونوں ہی چیزیں سراسر باطل ہیں۔ شکایت کا پیدا ہونا اگر بذات خود کوئی اہمیت رکھتا ہو تو دنیا کا کوئی شخص بھی قابل اعتبار نہیں، حتی کہ نعوذ باللہ پیغمبر بھی نہیں۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کے بارہ میں شکایت کرنے والوں نے شکایتیں نہ کی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلا شبہ معصوم تھے۔ مگر سیرت اور حدیث کی کتابیں بتاتی ہیں کہ آپ کے زمانہ کے یہود اور منافقین نے آپ کے اوپر طرح طرح کے الزامات لگائے۔ حتی کہ وہ لوگ جن کو صحابی کہا جاتا ہے ان میں بھی ایسے افراد نکلے جنھیں آپ کے بارہ میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور اس کا اظہار ہوا۔ یہاں صرف ایک واقعہ بطور مثال نقل کیا جاتا ہے ۔ غزوہ حنین کے بعد کافی مال غنیمت ملا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال کو لوگوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ اس دوران ایک مسلمان کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ سیرہ ابن ہشام میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : خرجت انا و تقلید ابن کلاب الليثی حتی راوی کہتے ہیں کہ میں اور تقلید بن کلاب لیثی نکلے ۔ أتينا عبد الله بن عمرو بن العاص یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس وهو يطوف بالبيت معلقاً نعلہ بیدہ۔ پہونچے، اور وہ اپنے ہاتھ میں جوتا لیے ہوئے کعبہ کا فقلنا لہ - هل حضرت رسول الله طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا، کیا آپ اس صلی اللہ علیہ وسلم حين كلمه التمیی وقت موجود تھے جب تمیمی نے حنین کے دن يوم حنين ۔ فقال نعم - جاء رجل من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کیا۔ انھوں نے بیست ۔۔۔۔ خداوندی دھی۔۔۔۔ کہا ہاں ، تمیمی کا ایک آدمی آیا، اس کی تو نا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader