Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

اعمال کے نتائج

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

اعمال کے نتائج ایک حدیث قدسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ زمانہ کو برا نہ کہو ۔ زمانہ تو میں ہوں ۔ سارا معاملہ میرے ہاتھ میں ہے اور میں ہی رات اور دن کو الٹ پلٹ کرتا ہوں (لاَ تَسُبُّوا الدَّهْرَ وَأَنَا الدَّهْرُ يُقَلِّبُ الْأَمْرَ أُقَلِّبُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ) اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے قانون خداوندی کے مطابق ہوتا ہے۔ خدا ہی کے قانون کے مطابق حالات پیدا ہوتے ہیں اور خدا ہی کے حکم کے مطابق زمانہ گردش کرتا ہے۔ ایسی صورت میں زمانہ یا حالات کو برا کہنا خود حکیم خداوندی کو برا کہنا ہے۔ ایسا کہنا بے فائدہ ہے اور اسی کے ساتھ سرکشی بھی ۔ نادر شاہ ایرانی نہایت ظالم بادشاہ تھا۔ اس نے ۳۹۷۱ء میں دہلی پر حملہ کیا۔ دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد اس نے اپنی فوج کو حکم دیدیا کہ جو بھی ملے اس کو قتل کر دو۔ اس قتل عام میں ۳۰۰۰۰ لوگ مارے گیے۔ اس کے بعد اس نے شہر کو لوٹنے کا حکم دیا۔ ۲۶ مئی ۳۹۷۱ء کو جب وہ دہلی سے واپس ہوا تو اس کے ساتھ لوٹ کا جو مال تھا اس کی مقدار تیس کروڑ روپے تھی ۔ سونے ، چاندی اور جواہرات اس کے علاوہ تھے ۔ شاہ جہاں کا بنوایا ہوا تخت طاؤس بھی اسی موقع پر وہ اپنے ساتھ ایران لے گیا ۔ (۹/۳۸۵) کہا جاتا ہے کہ دہلی والوں پر جب یہ مصیبت اور تباہی آئی تو کچھ لوگ مرزا منظر جان جاناں کے پاس گئے اور کہا کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم کو نادر شاہ کے اس عذاب سے نجات دے۔ مرزا صاحب نے جواب دیا : شامت اعمال ما صورت نادر گرفت کسی قوم میں جب اخلاقی بگاؤ آتا ہے تو اس کی عملی طاقت بھی کمزور ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر اختلافات ابھرتے ہیں جو اس کی اجتماعی قوت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں ۔ اس کے اندر یہ مزاج پیدا ہوتا ہے کہ وہ انفرادی مفاد پر اجتماعی مفاد کو قربان کر دے۔ اپنی ذات سے بلند مقاصد کے لیے قربانیاں دینے کا حوصلہ اس کے اندر باقی نہیں رہتا۔ اس کے افراد بے اصول انسانوں کی ایک بھیڑ بن کر رہ جاتے ہیں۔ وہ سچائی کے آگے جھکنے کے بجائے طاقت کے آگے جھکنے والے بن جاتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں کسی قوم کے لیے اسی طرح مہلک ہیں جس طرح لکڑی کے لیے گھن۔ جس لکڑی کو گھن لگ جائے وہ کھڑی نہیں رہ سکتی ، اسی طرح جس قوم کے اندر یہ کمزوریاں پیدا ہو جائیں وہ تباہی اور بربادی سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page