اعمال کے نتائج
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
جب آدمی انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جائے حضرت سلیمان کے زمانہ حکومت (۳۷۹ - ۱۰۱۳ ق م) میں بحر قلزم کی مشرقی شاخ کے کنارے ایلات کے مقام پر یہودیوں کی آبادی تھی۔ انھوں نے قانونِ سبت کی خلاف ورزی کی۔ ان کی شریعت میں سبت (سنیچر) کے دن معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں۔ مگر وہ اس دن مچھلی کا شکار کرنے لگے۔ سنیچر کے دن مچھلیاں کثرت سے دریا میں آتی تھیں اور بقیہ دنوں میں پانی کے نیچے چلی جاتی تھیں۔ یہودی نے یہ شرعی تدبیر کی کہ دریا کے کنارے گڑھے بنائے۔ وہ دریا کا پانی کاٹ کر گڑھے میں ملا دیتے ۔ سنیچر کے دن جب مچھلیاں گڑھے میں آجاتیں تو دفکلنے کا راستہ بند کر دیتے ۔ اگلے دن انوار کوان مچھلیوں کو پکڑ لینے۔ یہ تدبیر وہ اس لئے کرتے تھے تاکہ ان پر یہ بات صادق نہ آئے کہ وہ سبت کے دن شکار کرتے ہیں۔ دن کے نام پر یہ بے دینی اللہ کو اتنی زیادہ نا پسند ہوئی کہ ان پر اللہ کی لعنت ہوئی۔ وہ بندر اور سور بنا دیے گئے (مائدہ ۶۰) ـــــــــ عملاً یہی حالت اگر چہ پوری قوم یہود کی تھی۔ تاہم ایک خاص مقام کے یہودیوں کے باطن کو ظاہری طور پر بھی مجسم کر دیا گیا تا کہ دوسروں کے لئے عبرت ہو (بقره ۶۶) بے دینی کو دین کے نام پر کرنا بدترین جرم ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے آدمی کے اندر سے صحیح اور غلط کا فرق مٹ جاتا ہے۔ وہ ایک بے حس انسان بن جاتا ہے ۔ دین اور بے دینی دونوں اس کو یکساں دکھائی دینے لگتے ہیں۔ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر آ جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ نوبت آتی ہے جب کہ اس میں بندر اور سور کی اخلاقیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ بندر کی خصوصیت کیا ہے۔ فساد اور بے حیائی۔ کسی مکان میں بندروں کا غول داخل ہو جائے تو وہ فوراً بے معنی اچھل کود اور توڑ پھوڑ شروع کر دے گا۔ ایسا ہی کچھ حال اس قوم کا ہو جاتا ہے۔ وہ زبان سے خدا کا انکار نہیں کرتی ۔ تاہم علاوہ خدا کی زمین پر اس طرح رہنے لگتی ہے جیسے اس زمین کا کوئی مالک نہیں ہے۔ جیسے نہ کبھی خدا سے اس کا سامنا ہونا ہے اور نہ اپنے اپنے کے کا حساب دینا ہے۔ ــــــــــــ بدظنی ، غیر ذمہ دارانہ زندگی، بے معنی کارروائیاں، آپس کی چھین جھپٹ، ایک دوسرے پر غرانا، ہمدردی اور انصاف کے بجائے ظلم و فساد کو اپنا شیوہ بنا لینا، یہ اس کی عام زندگی ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ بظاہر انسان مگر عملاً بندر صفت ہو جاتے ہیں ۔ سور کی خصوصیت کیا ہے۔ ستھری چیز کو چھوڑ کر، گندی چیز کو اپنی خوراک بنانا، اس کی ایک صورت وہ ہے جو کمائی اور لین دین میں ظاہر ہوتی ہے۔ آدمی حلال ذرائع پر قانع نہ رہ کر حرام سے اپنا پیٹ بھرنے لگتا ہے (مائدہ -۶۳)۔ دوسری صورت وہ ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے : اگر وہ ہدایت کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اس کو اپنا راستہ بنالیں (اعراف ۱۳۶) ایسے لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کی طرف دوڑنے لگتے ہیں، ان کو اصلاح کے کاموں کی طرف رغبت نہیں ہوتی۔ البتہ ایسے کاموں کی طرف وہ تیزی سے لپکتے ہیں جن کا نتیجہ نسلوں اور کھیتیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader