مذاق اُڑانا حرام ہے
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
مذاق اُڑانا حرام ہے قرآن میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ اے ایمان والو تم دوسرے کا مذاق نہ اُڑاؤ، ہو سکتا ہے کہ وہ تم سے بہتر ہو (الحجرات 11) حافظ ابن کثیر اس کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ینہٰی تعالیٰ عن السخریۃ بالناس ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کا مذاق اُڑانے سے منع فرمایا۔ والمراد من ذلك احتقارهم واستصغارهم اور اس سے مراد ان کو حقیر جاننا اور ان کو چھوٹا وهذا حرام سمجھنا ہے اور یہ حرام ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اپنے تفسیری نوٹ میں لکھتے ہیں ’’عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو شخصوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزا کرنے لگتا ہے۔ ذرا سی بات ہاتھ لگ گئی اور ہنسی مذاق اُڑانا شروع کر دیا۔ حالانکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اُڑا رہا ہے وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ بلکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اس کو بہتر سمجھتا ہوتا ہے۔ مگر ضد و نفسانیت میں دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے، اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔‘‘ دلیل کی بنیاد پر کسی کی تنقید کرنا عین جائز ہے۔ مگر بلا دلیل کسی کا مذاق اُڑانا سراسر حرام ہے۔ جب آدمی کسی کا مذاق اُڑاتا ہے تو اس کے پیچھے دراصل کبر ہوتا ہے۔ وہ اپنے کو بڑا سمجھتا ہے اور دوسرے کو حقیر خیال کرتا ہے۔ یہی وہ نفسیات ہے جس کے تحت کسی کی زبان سے وہ الفاظ نکلتے ہیں جس کو تمسخر یا مذاق اُڑانا کہا جاتا ہے۔ یہ متکبرانہ نفسیات کسی کے اندر کیوں پیدا ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ ہے دنیوی یا مادی چیزوں کو اہم سمجھنا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے گرد دولت ، شہرت، قیادت اور مناصب جمع ہو جائیں ان کو لوگ بڑا سمجھ لیتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جس آدمی کے گرد یہ رونقیں دکھائی نہ دیں اس کو حقیر سمجھ لیا جاتا ہے، یہی حقیر سمجھنا لوگوں کو جرات دلاتا ہے کہ وہ ایسے آدمی کا مذاق اُڑائیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ اصل بڑائی وہ ہے جو خدا کے یہاں حاصل ہو۔ اور خدا کے یہاں بڑائی کا معیار دنیوی رونقیں نہیں ہیں بلکہ تقویٰ ہے۔ مذاق اُڑانے والے کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ اس کو قیامت کا پردہ پھٹنے کے بعد اس بات پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader