تنقید اور عملی کارروائی
Urdu book, p. 280
By Maulana Wahiduddin Khan
من دینی وكنتم ميتہ ، الانعام ، (۵۴) اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر اس دنیا میں دلیل کی بنیاد پر کھڑا ہوتا ہے ، اس کے برحق ہونے کا ثبوت واضع دلیل ہوتی ہے نہ کہ محض ادعار۔ دوسری طرف قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ ! اور کفر کرنے والوں نے کہا کہ اس قرآن کو نہ سنو اور اس میں خلل ڈالو تاکہ تم غالب آجائو ( وقال الذين كفروا لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه لعلكم تغلبون ، حم السجدہ (۲۶) اس آیت کی تفسیر میں حسب ذیل روایت آتی ہے: قال الضحاك عن ابن عباس (والغوافيه) ضحاك راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس عنہ (تفسیر ابن کثیر) نے کہا کہ والغوایہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کو عیب لگائو۔ جو لوگ کسی بات کو دلیل سے رد نہ کر پائیں اور وہ اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہ ہوں، تو اس کے بعد وہ تعیب کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یعنی طرح طرح کے عیب لگا کر اس کو بدنام کرنا۔ پیغمبروں کے مخالفین ہر زمانہ میں اپنے پیغمبروں کے ساتھ ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ کہنے والے کے الفاظ کو اگر کمی بیشی کے بغیر اس کی اصلی صورت میں نقل کیا جائے اور پھر اس کو عقلی یا نقلی دلیل سے رد کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ تنقید ہے، اور تنقید عین جائز ہے ۔ لیکن اگر کہنے والے کے الفاظ کو اس کی اصلی صورت میں نقل کیے بغیر اس پر بے دلیل مخالفانہ یلغار کردیا جائے تو یہ تعیب ہے ، اور تعیب سراسر ناجائز ہے۔ جب ایک شخص دلیل کی زبان میں کلام کرے ، اور اس کے مخالفین اس کے برعکس عیب جوئی اور الزام تراشی کی زبان بول رہے ہوں تو یہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ شخص مذکور بلاشبہ حق پر ہے اور اس کے معارضین بلا شبہ ناحق پر ۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق دلیل کی زبان پیغمبروں کی زبان ہے ۔ اور عیب جوئی کی زبان اہل کفر کی زبان ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader