Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

غلط فہمی

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

غلط فہمی محمد دوم یا محمد فاتح (۱۴۸۱-۱۴۳۲) ترکی کا مشہور مسلم حکمراں ہے۔ اس نے ۱۴۵۳ء میں قسطنطنیہ کو فتح کیا اور اس کو نئے نام (استنبول) کے ساتھ اپنی راجدھانی بنایا۔ محمد فاتح کے سیاسی کارناموں سے متاثر ہو کر بعض لوگ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو اس حدیث کا مصداق ٹھہرائیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ قسطنطنیہ کا ذکر فرمایا ہے اور اس میں شرکت کرنے والوں کو خصوصی بشارت دی ہے۔ ایک صاحب اپنے مضمون میں لکھتے ہیں: ترکی کے شہر قسطنطنیہ کے بارہ میں رحمتہ للعالمین پیش گوئی فرماتے ہیں کہ وہ سالار خوش قسمت ہوگا جو دیار قیصر کو بلاد اسلامیہ میں شامل کرے گا۔۔۔۔ صدیوں کے بعد یہ پیشین گوئی جس ترک کے ہاتھوں پوری ہوئی وہ محمد فاتح کے نام سے تاریخ کی زینت ہے۔ (صراط مستقیم ، نومبر ۱۹۸۵) حدیث کے اصل الفاظ کو دیکھے بغیر اگر اس مضمون کو پڑھا جائے تو بظاہر مذکورہ بات صحیح معلوم ہوگی۔ مگر حدیث کے اصل الفاظ کی روشنی میں دیکھیے تو یہ بات بالکل غلط ہو جاتی ہے۔ یہ حدیث بخاری میں ہے۔ اس کے متعلقہ حصہ کے الفاظ یہ ہیں: قال النبي صلى الله عليه وسلم، اول جیش من امتی یغزون مدینة قیصر مغفور لہم (صحیح البخاری، کتاب الجهاد والسير)، یعنی میری امت کے پہلے لشکر کے لوگ جو کہ قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) کا غزوہ کریں گے وہ سب بخشے ہوئے لوگ ہیں۔ اس حدیث میں قسطنطنیہ کی فتح کا ذکر نہیں ہے۔ صرف اس پر پہلا غزوہ کرنے کا ذکر ہے۔ مضمون نگار کے ذہن نے شعوری یا غیر شعوری طور پر پہلے غزوہ کو فتح کے ہم معنی بنایا اور پھر اس کو محمد فاتح پر چسپاں کر دیا۔ حالاں کہ حدیث کے الفاظ کی بنا پر شارحین حدیث عام طور پر اس کا مصداق یزید کی مہم کو قرار دیتے ہیں۔ ابن کثیر نے یزید بن معاویہ کو اس کا مصداق ٹھہراتے ہوئے یہ الفاظ لکھے ہیں: اور یزید پہلا شخص ہے جس نے قیصر کے شہر (قسطنطنیہ) پر حملہ کیا (وقته كان يزيد اول من غزامدینة قیصر، البدایه والنھایه) ایک لفظ کے بدلنے نے کس طرح بات کہ سے کچھ ہو جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page