Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

دو نمونے

Urdu book, p. 286

By Maulana Wahiduddin Khan

دو نمونے اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورت حال میں کس قسم کا جواب پیش کرتا ہے ۔ اس اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں ۔ ایک صحیح جواب پیش کرنے والے ، اور دوسرے غلط جواب پیش کرنے والے ۔ صحیح جواب کیا ہے اور غلط جواب کیا۔ اس سلسلہ میں یہاں دور اول کی دو مثالیں لی جاتی ہیں ۔ قرآن میں مختلف طریقہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے۔ ارشاد ہوا ہے : من ذا الذی یقرض اللہ قرضا حسنا (کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے) اس سلسلہ میں ایک روایت حسب ذیل الفاظ میں آئی ہے : قال سعيد بن جبير عن ابن عباس ، لما نزلت حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ جب قرآن قوله تعالى (من ذا الذی يقرض اللہ قرضا میں یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسن حسنًا فيضاعفه له أضعافًا كثيرة) قالت دے تو اللہ اس کو کئی گنا لوٹائے ، تو اليهود يا محمد، افتقر ربك فسأل عباده مدینہ کے یہود نے کہا کہ اے محمد، تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اس لیے اپنے بندوں سے قرض مانگ رہا ہے ۔ المترض (تفسیر ابن کثیر، الجزء الاول ، صفحه ۴۳۳ ) یہ ایک قسم کے کردار کی مثال ہے ۔ یعنی وہ مثال جب کہ آدمی بات کو صحیح رخ سے نہ لے ۔ وہ اس میں شوشہ نکال کر اس کا مذاق اڑانے لگے ۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرے اس کے برعکس وہ داعی کی بات میں عیب نکال کر یہ ظاہر کرے کہ اس کی بات اس قابل ہی نہیں کہ اس پر عمل کیا جائے ۔ اب دوسرے قسم کے کردار کی مثال لیجئے ۔ مذکورہ قرآنی آیت میں ایک شخص کو صرف استہزاء کا مواد ملا تھا۔ مگر یہی آیت جب دوسرے آدمی کے سامنے آئی تو اس پر بالکل مختلف رد عمل ہوا۔ روایات میں آتا ہے ۔ عن عبد الله ابن مسعود قال لما نزلت حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جب قرآن کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page