Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

جدال احسن

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

جدال احسن گفتگو کے اسلامی آداب میں سے ایک وہ اصول ہے جس کو قرآن میں دفع احسن المومنون 94) یا جدال احسن (النحل ۱۲۵) کہا گیا ہے۔ یعنی مخالفانہ باتوں کے جواب میں رد عمل یا مناظرہ بازی کا طریقہ اختیار نہ کیا جائے۔ بلکہ احسن طریقہ سے اس کو ٹالنے یا اس سے گزر جانے کی کوشش کی جائے۔ اس طریقہ میں اللہ تعالی نے یہ طاقت رکھی ہے کہ وہ لوگوں کو مسخر کرلے۔ اس میں نہ صرف وقتی طور پر دفع شر کا فائدہ ہے، بلکہ قرآن کی شہادت کے مطابق ، وہ شر کو خیر میں اور دشمن کو دوست میں تبدیل کرنے کا نہایت مؤثر ذریعہ ہے (حم السجدہ ۳۴) جدال احسن کیا ہے، اس کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ایک مثال لیجئے ۔ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت توحید کا ذکر ہے اور اس مکالمہ کا تذکرہ ہے جو آنجناب کا وقت کے بادشاہ نمرود سے پیش آیا ۔ اس مکالمہ کا ایک حصہ یہ ہے : کیا تم نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارہ میں حجت کی ۔ کیوں کہ اللہ نے اس کو سلطنت دی تھی۔ جب ابراہیم نے اس سے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ وہ شخص بولا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں ۔ ابراہیم نے کہا کہ اللہ سورج کو پورب سے نکالتا ہے، تم اس کو پچھم سے نکال دو۔ تب وہ منکر حیران رہ گیا اور اللہ ظالموں کو راہ نہیں دکھاتا (البقره ۲۵۸) نمرود نے حضرت ابراہیم کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں بھی جلاتا ہوں اور مارتا ہوں اس لئے خود تمہارے معیار کے مطابق میں رب ہوں۔ یہ واضح طور پر سرکشی کا ایک جملہ تھا۔ مگر حضرت ابراہیم اس پر بادشاہ سے نہیں الجھے ۔ انہوں نے بات کو بدل کر یہ فرمایا کہ اچھا ، اگر تم رب ہو تو یہاں صبح و شام ، بالفاظ دیگر ، گردش زمین کا جو آفاقی نظام قائم ہے اس کو تم بدل کر دکھا دو۔ اس انداز کلام نے بادشاہ کو لاجواب کر دیا ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقہ نے عام طور پر اس اسلامی اصول کو بھلا دیا ہے۔ اس لئے وہ غیر ضروری طور پر اپنے آپ کو مشکلات میں پھنسا ہوا محسوس کرتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page