خدا کا قانون
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
برا کام ہے ( التوبہ (۹) اس سے اعمال حبط ہو جاتے ہیں ۔ محمد ۳۲ ) ایسے لوگوں کی مغفرت نہیں ہوگی محمد ۳۴ ) بلکہ انہیں عام گنہگاروں سے زیادہ سخت عذاب دیا جائے گا ( النحل ۸۸ ، صد عن سبیل اللہ کیا ہے ، اس کو سمجھنے کے لئے حسب ذیل آیت کا مطالعہ کیجئے : ومن اظلم ممن افتری علی الله كذبا اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ اولئك يُعْرَضُوْنَ عَلى رَبِّهِمْ وَيقول الاشهاد گھڑے ۔ ایسے لوگ اپنے رب کے سامنے پیش ہونگے هُؤُلَاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلى رَبِّهِمْ ۔ آلا اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں لعنة الله على الظلمين الَّذِينَ يَصُدُّونَ جنھوں نے اپنے رب پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سنو، اللہ عن سبيل الله و يبغونها عوجا وهم کی لعنت ہے ظالموں کے اوپر، ان لوگوں کے اوپر بالآخرة هم كافرون ۔ جو اللہ کے راستہ سے لوگوں کوروکتے ہیں اور اس ھود ۱۸ - ۱۹ میں کجی ڈھونڈتے ہیں، اور وہ آخرت کے منکر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ صد عن سبیل اللہ یہ ہے کہ دعوت حق میں ٹیڑھے مطلب نکالے جائیں اور اس طرح داعی اور دعوت کی سچائی کو لوگوں کی نظریں مشتبہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ یہ کام ہمیشہ وقت کے خواص کرتے ہیں۔ وہ داعی کی شخصیت اور دامی کے پیغام میں اپنی ذہانت سے ایسے الٹے پہلو نکالتے ہیں جن کا تجزیہ عوام نہ کرسکیں اور داعی اور اس کی دعوت کی طرف سے شبہ میں پڑ جائیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ گویا خدا کے اوپر جسارت کر رہے ہیں۔ وہ قیامت کے دن خدا کی عدالت میں حاضر کئے جائیں گے۔ اس وقت وہی داعی جن کو انھوں نے دنیا میں حقیر کیا اور ان کے پیغام کو قابل نفرت انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا، وہی ان کے اوپر گواہ بن کر کھڑے ہوں گے اور بتائیں گے کہ کس طرح انھوں نے اپنی جھوٹی باتوں سے خلق خدا کو حق سے پھیرنے کی کوشش کی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader