Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

ایک آیت

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک آیت قرآن کی ایک آیت ہے : یا ایُّهَا الَّذِينَ امَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً (البقرہ ۲۰۸) ایک صاحب نے اس آیت کی تشریح اس طرح کی ہے گویا کہ اس میں مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ انقلابی جھنڈ لے کر کھڑے ہو جائیں اور تمام دنیا میں اسلام کی مکمل حکومت قائم کردیں ۔ مگر اس قسم کے ” انقلابی مشن “ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس آیت کا خطاب فرد مسلم سے ہے۔ ایک ایک مسلمان سے کہا جارہا ہے کہ تم اپنی زندگی کو خدا کے حکم پر ڈھال لو، تم پوری طرح اسلام کے رنگ میں رنگ جاؤ۔ اس آیت میں فرد کے داخلی اطاعت ہونے کا ذکر ہے نہ کہ نظام حکومت کو داخل اطاعت کرنے کا ۔ عربی میں ایک لفظ اَدْخُلوا (پیش کے ساتھ) ہے۔ دوسرا لفظ اَدْخِلُوا (زبر کے ساتھ) ہے۔ سورۃ البقرہ (۲۰۸) میں پہلا لفظ ہے، اور سورۃ المومن (۴۶) میں دوسرا لفظ ۔ اَدْخُلوا کے معنی ہیں داخل ہو جاؤ۔ اور اَدْخِلوا کے معنی ہیں داخل کرو۔ بالفاظ دیگر، پہلے لفظ کا خطاب اپنے آپ سے ہے، اور دوسرے لفظ کا خطاب دوسروں سے ۔ سورۃ البقرہ کی مذکورہ آیت میں اَدْخُلوا (پیش کے ساتھ ، نہ کہ زبر کے ساتھ) ہے۔ یعنی اس آیت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو مکمل اسلام میں داخل کرو۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم خود بحیثیت ایک فرد کے پوری طرح اسلام کے اندر آجاؤ۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب نے اس آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے : ”اے ایمان والو، داخل ہو جاؤ اسلام میں پورے سے “ اور اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے : ”اسلام کو پورا پورا قبول کرو۔ یعنی ظاہر و باطن اور عقیدہ و عمل میں صرف احکام اسلام کا اتباع کرو۔ یہ نہ ہو کہ اپنی عقل یا کسی دوسرے کے کہنے سے کوئی حکم تسلیم کرو، یا کوئی عمل کرنے لگو۔ سوا اس سے بدعت کا قلع قمع مقصود ہے۔ کیوں کہ بدعت کی حقیقت یہی ہے کہ کسی عقیدہ یا کسی عمل کو کسی وجہ سے مستحسن سمجھ کر اپنی طرف سے دین میں شمار کر لیا جائے۔ مثلاً نماز اور روزہ جو کہ افضل عبادات ہیں، اگر بدون حکم شریعت کوئی اپنی طرف سے مقرر کرنے لگے ، جیسے عید کے دن عید گاہ میں نوافل کا پڑھنا یا ہزارہ روزہ رکھنا، یہ بدعت ہوگا۔ خلاصہ ان آیات کا یہ ہوا کہ اخلاص کے ساتھ ایمان لاؤ اور بدعات سے بچتے رہو " صفحه ۴۱

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page