پیامبر اسلام
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
مشترک ہیں وہ آپ کی حیثیت رسالت کے خانہ میں جائیں گی۔ اور جو چیزیں آپ میں اور دوسرے نبیوں میں مشترک نہیں وہ آپ کی حیثیت خاتم النبیین کے خانہ میں ہیں۔ مثلاً محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے مخالفین پر سیاسی فتوحات حاصل ہوئیں۔ آپ کا دین زمین کے ایک بڑے حصہ میں غالب اور حکمران ہو گیا۔ یہ ایسی چیز ہے جو دوسرے نبیوں کے یہاں نہیں پائی جاتی۔ یہ فرق کیوں ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ آپ خاتم النبیین تھے۔ آپ کے بعد چونکہ کوئی نبی آنے والا نہیں تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ آپ کا لایا ہوا دین ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے۔ (انا نحن نزلنا الذكر وانّا لہ لحافظون) کوئی طاقت اس میں کسی قسم کی کوئی تحریف نہ کر سکے۔ آسمانی کتاب میں تحریف کے بعد نیا نبی آنا ضروری ہو جاتا ہے۔ چونکہ آپ کے بعد خدائی اسکیم میں کوئی اور نبی آنے والا نہیں تھا۔ اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی لائی ہوئی کتاب کی مستقل اور قابلِ اعتماد حفاظت کا انتظام کر دیا جائے۔ یہی وہ مقصد ہے جو سیاسی غلبہ کے ذریعہ حاصل کیا گیا۔ یہ خدا کی ایک خاص مصلحت تھی جس کے لئے آپ کو اور آپ کے پیروؤں کو عرب میں اور اطرافِ عرب میں کامل غلبہ دیا گیا۔ اس طرح خدا کی آخری کتاب کی پشت پر ایک ایسی طاقت ور حکومت کھڑی کر دی گئی جو صدیوں تک مسلسل اس کی حفاظت کرتی رہی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اسلام دشمن طاقتیں قرآن کو مٹا دیتیں یا اس کو اس طرح بدل دیتیں کہ وہ لوگوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے اپنی اصل صورت میں باقی نہ رہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیاسی غلبہ کو جمع کرنا آپ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت کے لئے تھا۔ تاریخ ثابت کرتی ہے کہ سیاسی غلبہ کے ذریعہ یہ مقصد صد فی صد حاصل ہوا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تصویر قرآن وحدیث سے ثابت ہوتی ہے وہی ہے۔ اور آپ کی صحیح اور سچی تصویر یقینی طور پر وہی ہے جو قرآن وحدیث سے ثابت ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader