Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

بے معنی مسائل

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

بے معنی مسائل حدیث میں آیا ہے : ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نهی عن الاغلوطات ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اغلوطات سے منع کیا ہے ۔ اغلوطات سے مراد وہ مسائل ہیں جو واقع ہونے سے پہلے فرضی طور پر قائم کئے جاتے ہیں (ھی المسائل التي لم تقع) دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ہے : ان اللہ کرہ لکم قیل وقال و كثرة السؤالِ اللہ نے تمھارے لئے قیل وقال کو اور کثرت سوال و اضاعة المال کو اور مال ضائع کرنے کو ناپسند کیا ہے۔ یہ تعلیم بے حد حکمت پر مبنی ہے۔ اگر لوگوں کے اندر یہ مزاج باقی نہ رہے تو وہ ہر بات کو بحث کا موضوع بنائیں گے ، ہر چیز کو منطق کے پیمانہ سے تابلیں گے۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوگا کہ دین کا اصل سراچھوٹ جائے گا اور بے معنی مسائل پر فضلی بحث کے سوا ان کے پاس اور کچھ باقی نہ رہے گا۔ خدا کا سادہ دین انسانی اضافوں کے بعد مشکل اور پیچیدہ دین ہوکر رہ جائے گا۔ ایک مثال لیجئے ۔ ایک مرتبہ کسی نے ایک آدمی سے پوچھا کیا تم مسلمان ہو ۔ اس کی زبان سے نکلا : انا مومن انشاء اللہ (خدا نے چاہا تو میں مومن ہوں) یہ بات بحث کی نہ تھی۔ مگر ماہرین فقہ نے غیر ضروری طور پر اس کو بحث کا موضوع بنایا۔ اب ان کے درمیان یہ بحث چل پڑی کہ اس قسم کا جواب دینا جائز ہے یا ناجائز۔ ایک گروہ نے کہا کہ جائز ہے۔ کیونکہ کسی کا مومن ہونا یا نہ ہونا خدا کی مشیت ہی پر ہے۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ ناجائز ہے۔ کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنے ایمان میں شک ہے۔ شافعی مسلک کے لوگ اس کے قائل تھے کہ انا مومن انشاء اللہ کہنا جائز ہے۔ اس کے برعکس حنفی مسلک کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایسا کہنا جائز نہیں۔ جب یہ بحث بڑھی تو یہ سوال پیدا ہوگیا کہ ایسے لوگوں کے درمیان نکاح درست ہوگا یا نہیں۔ ایک گروہ نے کہا کہ حنفی عورت کا نکاح شافعی مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ کیونکہ اس کو اس کے ایمان پر شک ہے (لا يصح لانها تشك في ايمانها) دوسروں کا فتویٰ یہ تھا کہ ذمی عورت پر قیاس کرتے ہوئے نکاح درست ہوگا (یصح قياسا على الذمية ) اس سے اندازہ کیجئے کہ غیر ضروری بحثوں میں پڑنے کے بعد صراط مستقیم کا سرا کس طرح چھوٹ جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page