قرآن جامع العلوم ہے
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن جامع العلوم ہے کسی شاعر کا شعر ہے: جميع العلم فی القرآن لکن تقاصر عنه افهام الرجال قرآن میں سارا علم موجود ہے۔ مگر لوگوں کی فہم اس کو پانے سے قاصر ہو رہی ہے۔ مولا نا سید مناظر احسن گیلانی لکھتے ہیں کہ حضرت الاستاذ مولانا محمد انور شاہ کشمیری اس عربی شعر کے متعلق فرماتے تھے کہ یہ کسی غیبی کا شعر ہے۔ اور زیادہ جلال آنے پر اس شعر کے کہنے والے کو بھی الا عنیاء کہتے تھے (حیات انور) مگر قرآن میں خود اس کتاب کو کتاب مفصل (الانعام ۱۱۴) کہا گیا ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہو ا ہے کہ قرآن میں ہر چیز کی تفصیل (یوسف ۱۱۱) موجود ہے۔ ان حالات میں شاعر نے اس کے سوا اور کچھ نہیں کہا ہے کہ، قرآن کی بات کو اپنے لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ یہ قرآن میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ہیں وہ مطلق اور عام ہیں۔ مگر تمام محقق علماء اس مطلق کو مقید کرتے ہیں۔ مذکورہ شعر کو بھی اسی معنی میں سمجھنا چاہئے۔ ورنہ قرآن میں تو ساری شریعت بھی موجود نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ قرآن میں سارا علم موجود ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ قرآن بجلی یا ہشرو لیم انجینئرنگ کی ٹیکسٹ بک ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ علم انسانی کے سرے قرآن میں موجود ہیں۔ وہ تمام اصولی اور اساسی باتیں قرآن میں موجود ہیں جو انسان کے لیے اس کی زندگی کی تعمیر کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ قرآن کا اصل اور براہ راست موضوع تو توحید اور آخرت ہے۔ وہ انسان کے سامنے خالق کا تعارف کراتا ہے اور آنے والی ابدی زندگی کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ تاہم اصل موضوع کی تفصیل کے دوران ضمنی طور پر وہ تمام باتیں بھی مذکور ہو گئی ہیں جو حیات دنیا کی تعمیر کے لئے اساسی اہمیت رکھتی ہیں۔ قرآن میں حضرت موسیٰ کا قصہ نہایت تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ اس قصہ سے اصلا جو سبق دینا ہے وہ تمام تر توحید اور رسالت اور آخرت کے مسائل ہیں۔ مگر اس کے ساتھ اس میں بہت سے ایسے اشارے بھی شامل ہو گئے ہیں جن کا تعلق حیات دنیا کی تعمیر سے ہے۔ مثلاً مدین کے سفر کے دوران حضرت شعیب کی لڑکی کا اپنے والد سے یہ کہنا کہ ان خیر من استاجرت القوی الامين (القصص ۲۶) یہاں نہایت مختصر لفظوں میں وہ دو اہم ترین خصوصیت بتا دی گئی ہے جو اجر کو اجیر کے تقرر کے وقت سامنے رکھنا چاہئے ایک یہ کہ وہ محنتی ہو اور دوسرے یہ کہ وہ دیانت دار ہو۔ یہ دو الفاظ اتنے جامع ہیں کہ ان پر جو اضافہ بھی کیا جائے گا وہ انہیں دونوں میں کسی کے تحت آ جائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader