بے ضرر ہونا
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
بے ضرر ہونا حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المسلم من سلم المسلمون من لسانه ویدہ (البخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان سے اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں، یہی بات دوسری روایت میں اس طرح آئی ہے کہ : المسلم من سلم الناس من لسانه (احمد) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ) سے لوگ محفوظار ہیں۔ ان دونوں روایتوں میں سے ایک میں ”مسلم“ کا لفظ ہے اور دوسری میں ”لوگ “ کا مگر دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ یہ ایک عام ادبی اسلوب ہے کہ کبھی کلام میں لفظی اعتبار سے بظاہر خصوص ہوتا ہے مگر اس سے عموم مراد ہوتا ہے، اور کبھی باعتبار الفاظ عموم ہوتا ہے اور اس سے خصوص مراد ہوتا ہے۔ یہ اسلوب بہت سی حدیثوں میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک روایت ہے کہ المسلم اخو المسلم (البخاری) یعنی ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ یہی بات دوسری جگہ ان الفاظ میں ہے کہ : إن العباد كلهم اخوة (ابوداؤد) یعنی تمام انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ مسلم وہ ہے جو اپنے آپ کو خدا کے سپر د کر دے۔ جو خدا کی عظمتوں کا اس طرح ادراک کرے کہ اپنا وجود اس کو ہر اعتبار سے غیر عظیم دکھائی دینے لگے۔ ایسے انسان کے اندر جو اخلاقیات پیدا ہوتی ہیں اسی کا ایک پہلو وہ ہے جو مذکورہ حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ ایسا انسان ہر لمحہ اپنے آپ کو خدا کی نگرانی میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ احساس اس کے اندر ایسی شخصیت کی تخلیق کرتا ہے جو دوسروں کے لیے کامل طور پر بے ضرر ہو۔ اس کی زبان کسی کے خلاف نہیں کھلتی۔ اس کے ہاتھ سے کسی کو دکھ کا تجربہ نہیں ہوتا۔ وہ گویا اس کے لیے نااہل ہو جاتا ہے کہ اس کی طاقت اور صلاحیت کبھی بھی اور کسی حال میں بھی کسی کے خلاف استعمال ہو۔ مومن و مسلم انسان کسی کے لیے مسئلہ نہیں بنتا اور نہ کسی کو تکلیف پہنچاتا۔ خدا کی عظمت و جلال کا احساس اس کو ایک ایسے درخت کی مانند بنا دیتا ہے جس کا کانٹا توڑ دیا گیا ہو اور اب اس میں صرف پھول ہی پھول رہ جائیں۔ مومن وہ ہے جو لوگوں کے درمیان نو پر البلم انسان بن کر رہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader