Urdu book · قال اللہ و قال الرسول

نو پرابلم انسان

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

نو پرابلم انسان حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن واللہ لا یؤمن من الذی لا یأمن جارہ بوائقه (البخاری، کتاب الادب) خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے ، خدا کی قسم وہ مومن نہیں ہے جس کے شر سے اس کا پڑوسی امن میں نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان اور پڑوسی کو ستانا دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے۔ ایمان ہوگا تو پڑوسی کو ستانا نہیں ہوگا، اور جہاں پڑوسی کو ستایا جارہا ہو وہاں ایمان موجود نہ ہوگا۔ اگر کسی مقام پر پھول ہو تو آس پاس کے لوگوں کو خوشبو مل رہی ہوگی۔ یہ ناممکن ہے کہ پھول تو موجود ہو مگر ماحول کو اس سے بدبو کا تحفہ ملے ، اسی طرح مومن خدا کا زندہ پھول ہے۔ وہ جہاں بھی ہو وہ اپنے آس پاس کے ماحول کو خوشبو دار سلوک کی نعمت دے رہا ہوگا۔ اور اگر کسی ماحول میں لوگوں کو بدبو دار سلوک کا تجربہ ہو رہا ہو تو یقین کرلینا چاہیے کہ وہاں نہ ایمان ہے اور نہ وہاں مومن کا کوئی وجود ہے۔ ایمان کیا ہے، ایمان شخصیت کی تعمیر ہے۔ ایمان ایک انسان کو عام انسان کے درجے سے اٹھاکر خاص انسان بنا دیتا ہے۔ اب وہ ایک محتاط انسان بن جاتا ہے۔ اب وہ صرف اپنے آپ میں نہیں جیتا بلکہ دوسروں کی رعایت کو بھی وہ اپنے لیے لازم قرار دے لیتا ہے۔ وہ اپنے ہر عمل سے پہلے یہ سوچتا ہے کہ اس کی سرگرمیوں دوسرے کے لیے تکلیف کا سبب تو نہیں بنیں گی۔ اس کی اس محتاط روش کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے پڑوسیوں کو اس کی طرف سے کسی بڑے تجربہ کا سابقہ پیش نہیں آتا۔ حدیث میں جو بات کہی گئی ہے ، اس کو لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ مومن ایک نو پرابلم انسان ہوتا ہے۔ وہ خواہ جہاں بھی ہو، ہر جگہ اس کے پاس کے لوگوں اور اس سے تعلق رکھنے والوں کو اس سے راحت ملتی ہے کسی کے لیے بھی وہ مسئلہ پیدا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ ایمان کا اول درجہ یہ ہے کہ آپ لوگوں کے لیے نفع بخش بنیں۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ لوگوں کو آپ اپنے ضرر سے بچائیں۔ اس کے بعد ایمان کا کوئی تیسرا درجہ نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page